فضائل القرآن — Page 159
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔عورت اور مرد کے تعلقات پر بحث 159 اب میں مثال کے طور پر ایک اور بات کو لے لیتا ہوں اور وہ عورت اور مرد کا تعلق ہے۔یہ ایک ایسا فطری تعلق ہے جو جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے اور کسی گہرے تدبر سے اس کے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ایک شیر دوسرے تمام جانداروں کو پھاڑے گا لیکن وہ بھی شیرنی کے ساتھ رہنے کی ضرورت محسوس کرے گا۔گدھا بے وقوف جانور سمجھا جاتا ہے لیکن وہ بھی گدھی سے تعلق ضروری سمجھتا ہے۔غرض یہ تعلق ایسا ہے کہ دنیا کے ہر جاندار کا ذہن ادھر جاتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔پس اس کی تعلیم بہت مکمل ہونی چاہئے کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے یہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور اب تک محسوس کی جارہی ہے مگر ساری مذہبی کتابیں اس کی تکمیل سے محروم ہیں صرف قرآن کریم نے ہی اسے مکمل کیا ہے۔حالانکہ بظاہر اس تعلق سے متعلق کسی کتاب کا نئی بات بتانا ناممکن سا نظر آتا ہے۔عورت مرد کے تعلقات کا مضمون ایک وسیع مضمون ہے۔میں اس وقت کثرت ازدواج، حقوق نسواں، ایک دوسرے کے معاملہ میں مرد و عورت کی ذمہ داریاں، مہر اور طلاق وغیرہ کے مسائل نہیں لوں گا کہ یہ مسائل زیادہ لمبے اور باریک ہیں۔میں صرف اس چھوٹی سے چھوٹی بات کو لوں گا جس کی وجہ سے مردوعورت آپس میں ایک جگہ رہنے لگ جاتے ہیں اور بتاؤں گا کہ اس تعلق کو بھی اسلام نے کس قدر مکمل طور پر بیان کیا ہے اور اسے کتنا لطیف اور خوبصورت مضمون بنادیا ہے۔دوسرے مذاہب کی مقدس کتب کو جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ابتدائی مسئلہ کے متعلق بھی خاموش ہیں۔مثلاً انجیل کو لیں تو اس میں عورت اور مرد کے تعلق کے متعلق لکھا ہے: شاگردوں نے اس سے کہا کہ اگر مرد کا بیوی کے ساتھ ایسا ہی حال ہے تو بیاہ کرنا ہی اچھا نہیں۔اس نے ان سے کہا کہ سب اس بات کو قبول نہیں کر سکتے مگر وہی جنہیں یہ قدرت دی گئی ہے کیونکہ بعض خوجے ایسے ہیں جو ماں کے پیٹ ہی سے ایسے پیدا ہوئے اور بعض خوبے ایسے ہیں جنہیں آدمیوں نے خوجہ بنایا اور بعض خوجے ایسے ہیں جنہوں نے آسمان کی بادشاہت کے لئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا۔جو قبول کر سکتا ہے