فضائل القرآن — Page 154
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 154 کیا گیا۔حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ غریب اسی سے دے دے جو امیر اس کے گھر بھیجے لیکن صدقہ ضرور دے۔صدقہ کے مستحقین گیارہویں بات اسلام نے یہ بتائی ہے کہ صدقہ کسے دیا جائے۔میں نے بتایا ہے وید میں کہا گیا ہے کہ برہمن کو صدقہ دیا جائے کسی اور کو نہ دیا جائے۔بعض مذاہب میں قومی اور خاندانی لحاظ سے صدقہ دینے کا حکم ہے۔مگر اسلام کہتا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے۔بعض مذاہب نے صدقہ غیر کے لئے رکھا ہے اپنے لوگوں کے لئے نہیں۔مسلمانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو صدقہ نہیں دینا چاہئے حالانکہ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں آتا ہے۔قُلْ مَا انْفَقْتُم مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَمى وَالْمَسْكِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ یعنی جو مال تم خدا کی راہ میں تقسیم کرو اگر تمہارے ماں باپ محتاج ہوں اور تمہارے ہدایا سے بھی ان کی تنگی ڈور نہ ہو سکے تو انہیں صدقہ میں سے بھی دے سکتے ہو۔پھر اقر بین کو دو۔بیتامی کو دو، مساکین کو دو، مسافروں کو دو۔پھر فرماتا ہے۔ائما الصَّدَقُتُ لِلْفَقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرَّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيضَةً مِنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَکیم - ۳۹ یعنی صدقات غریبوں کے لئے ، مسکینوں کے لئے اور جوان صدقات کو جمع کرنے والے ہوں ان کے لئے ہیں۔اسی طرح جو اسلام نہیں لائے ان کے لئے یعنی ان کے کھانے پینے کے لئے ، ان کی رہائش کے لئے ، ان کی تعلیم و تربیت کے لئے ، پھر قیدیوں کے چھڑانے کے لئے ، قرض داروں کے لئے ، جو جہاد کے لئے جائیں ان کے لئے اور مسافروں کے لئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔اسی طرح فرمایا۔لَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِین۔" یعنی اللہ تمہیں روکتا نہیں کہ تم صدقہ دوان کو جو تم سے لڑتے نہیں۔جنہوں نے