فضائل القرآن — Page 151
فصائل القرآن نمبر۔۔۔151 ہے کہ غرباء روزانہ امراء کو اچھا کھاتے اور اچھے کپڑے پہنتے دیکھتے ہیں اور خود بھی چاہتے ہیں کہ ویسے ہی کپڑے پہنیں اور ویسے ہی کھانے کھائیں۔اس لئے ایسی بھی صورت ہونی چاہئے کہ ان کو اس امر کے مواقع حاصل ہو سکیں۔اسلام لوگوں کو خشک فلسفی نہیں بنا تا بلکہ لوگوں کے دلوں کے خیالات پڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے جسے ہم بھی بچپن میں بہت خوشی سے سنا کرتے تھے۔قصہ یہ تھا کہ کوئی لکڑ ہارا تھا جو بادشاہ کے باورچی خانہ کے لئے لکڑیاں لا یا کرتا تھا۔ایک دن جب وہ لکڑیاں لے کر آیا تو کھانے کو بگھار لگایا جارہا تھا۔اس کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور باورچی سے کہنے لگا کہ کیا اس کھانے میں سے مجھے کچھ دے سکتے ہو۔اس نے کہا یہ بڑا قیمتی کھانا ہے۔تمہیں کس طرح دیا جاسکتا ہے۔کہتے تھے اشرفیوں کا بگھار لگاتے تھے۔یہ معلوم نہیں کس طرح لگاتے تھے۔لکڑ ہارے نے پوچھا۔یہ کتنا قیمتی ہے۔اسے بتایا گیا کہ تمہارے چھ ماہ کی لکڑیوں کی قیمت کے مساوی ہے۔اس پر وہ لکڑیاں ڈالنے لگا۔پہلے روزانہ ایک بوجھ لا یا کرتا تھا۔پھر دو لانے لگا۔ایک بوجھ کھانے کی قیمت میں دیتا اور ایک بوجھ کی قیمت سے گزارہ چلاتا۔آخر چھ ماہ کے بعد اسے وہ کھانا دیا گیا۔جب وہ اسے لے کر گھر گیا۔تو کسی فقیر نے اس کے دروازہ پر جا کر کھانا مانگا۔لکڑ ہارے کی بیوی نے کہا۔یہی کھانا اسے دیدو کیونکہ ہم تو چھ ماہ لکڑیاں ڈال کر یہ پھر بھی لے سکتے ہیں لیکن یہ اس طرح بھی نہیں لے سکتا۔لکڑ ہارے نے وہ کھانا فقیر کو دے دیا۔اسی طرح ہمایوں کو جس سقہ نے دریا میں ڈوبتے ہوئے بچایا تھا۔اسے جب کہا گیا کہ جو کچھ چاہو مانگو تو اس نے چار پہر کے لئے بادشاہت مانگی۔یہ تھی ایک سقہ کے دل کی خواہش تو خدا تعالیٰ ولوں کو پڑھتا ہے۔فلسفی کو ان باتوں کی کیا خبر ہوسکتی ہے پس دلوں کے احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے اسلام نے یہ حکم دیا کہ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ۳۵ کہ جو کچھ خدا نے دیا ہو اس میں سے خرچ کرو۔روپیہ ہی صدقہ میں نہیں دینا چاہئے کبھی اچھا کپڑا بھی دو، اچھا کھانا بھی دو بلکہ جو کچھ تمہیں دیا جائے اس میں سے بانٹتے رہو۔اس سے بھی واضح الفاظ میں دوسری جگہ فرمایا۔كُلُوا مِنْ ثَمَرِ إِذَا أَثْمَرَ وَاتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا ۳۶ اے باغوں والے مسلمانو ! جب تمہارے باغ پھل لاتے ہیں تو تم