فضائل القرآن — Page 144
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 144 اعلان کرنے کے کہ فلاں کی مدد کرو اسے خود بھی دینے کا خیال آجائے گا۔یہ ظاہری طور پر صدقہ دینے کے فوائد ہیں۔اسی طرح اگر مخفی طور پر خیرات دی جائے تو وہ دینے والے کے اپنے نفس کے لئے اچھی ہے۔اس سے اس میں ریاء پیدا نہیں ہوگا جو ظاہر طور پر دینے سے پیدا ہو سکتا ہے لیکن جو شخص مخفی خیرات اس لئے دیتا ہے کہ اس کے دل میں ریاء پیدا نہ ہو وہ جب ظاہر طور پر دے گا تب بھی ریاء کا جذبہ اس میں پیدا نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے نفس کو ریاء سے بچانے کے لئے پوشیدہ طور پر دے کر مشق کرتا رہتا ہے۔ریاء کا جذبہ اسی میں پیدا ہو سکتا ہے جو صرف ظاہرہ خیرات دیتا ہے۔پھر لکم کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ پوشیدہ دینے میں تمہارے لئے بھی نفع ہے اور فقراء کے لئے بھی یعنی جنہیں دیتے ہو ان کے لئے بھی کیونکہ اس طرح ان کی عزت نفس محفوظ رہتی ہے اور وہ شرمندہ نہیں ہوتے۔غرض مخفی طور پر صدقہ دینا، دینے والے کے لئے بھی نفع بخش ہے کیونکہ اس میں ریا پیدا نہیں ہوتا اور لینے والے کے لئے بھی کہ اس کی خفت نہیں ہوتی۔صدقہ کی مختلف اقسام صدقہ کے متعلق تیسرا پہلو یہ ہے کہ اسلام نے اس کی اقسام مقرر کی ہیں۔صدقہ کی ایک قسم تو لازمی ہے جس کے متعلق فرمایا۔وَأَقِیمُوا الصَّلوةَ وَآتُوا الزَّكوة " تم نماز با شرائط جماعت کے ساتھ ادا کرو اور زکوۃ دو۔آگے اس لازمی صدقہ کی دو قسمیں بتا ئیں۔اول لازمی وقتی جیسے جہاد ہے۔جب جہاد کا موقع پیش آجائے اس وقت قوم کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے اموال پیش کر دے۔دوم لا زمی مقررہ جیسے فرمایا خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ ۲۴ یہ زکوۃ ہے لیکن ایک صدقہ وقتی غیر مقررہ ہے اس میں شریعت یہ نہیں کہتی کہ کتنا دو بلکہ یہ کہتی ہے کہ اس وقت ضرور دو۔مقررہ میں تو حد مقرر کر دی گئی ہے کہ چالیسواں حصہ یا جانوروں میں سے اتنا حصہ دیا جائے مگر جہاد کے لئے کہا جاتا ہے کہ دو جتنا دے سکتے ہو۔چنانچہ ایک جہاد کے موقع کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔مجھے خیال آیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے بڑھ جاتے ہیں۔آج میں ان سے بڑھوں گا۔یہ خیال کر کے میں گھر گیا اور اپنے مال میں سے آدھا مال نکال کر رسول کریم ملایا ہم کی