فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 434

فضائل القرآن — Page 141

فصائل القرآن نمبر۔۔۔141 سکتا کہ نَعُوذُ بالله رسول کریم سنی با اینم اپنی بادشاہت جتلاتے تھے اور اپنے لئے پہرہ مقرر کرتے تھے۔پہرہ آپ کے لئے ضروری تھا اور اس کا مقرر نہ کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہوتا۔صدقہ وخیرات کی تقسیم کے متعلق ہدایات اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا۔اس میں مندرجہ ذیل باتیں بیان کی گئی ہیں۔اوّل۔انسان مال و دولت بالکل ہی نہ لگا دے بلکہ اپنے اہل وعیال کے لئے بھی رکھ لے۔19 گویا ساری کی ساری خیرات نہ کرے بلکہ اس میں سے کچھ خیرات کرے۔دوم۔اس طرح خیرات نہ کرے کہ اس سے کسی کو فائدہ نہ پہنچے۔تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا کے معنی ہیں بکھیر دینا۔اگر دس بھو کے آئیں اور ایک روٹی دینے کے لئے ہو تو سب کو اس کا ایک ایک ٹکڑا دینے سے کسی کے بھی کام نہ آئے گی۔وہی روٹی اگر ایک کو دے دو اور دوسروں سے کہہ دو کہ یہی ایک روٹی تھی تو یہ بہتر ہوگا۔یا مثلاً بہت سے آدمی بیمار پڑے ہوں اور صرف پانچ گرین کو نین ہو تو سب کو تھوڑی تھوڑی دینے سے کسی کو بھی فائدہ نہ ہو گا لیکن اگر ایک کو دے دی جائے تو اس کے لئے مفید ثابت ہو سکے گی۔تو فرمایا اول تو یہ حکم ہے کہ سارا مال تقسیم نہ کر دو اور دوسرے یہ کہ اس طرح تقسیم کرو کہ جسے دو، وہ اس سے فائدہ اُٹھا سکے۔جو ایسا نہ کرے اس کے متعلق فرمایا۔ان الْمُبَشِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيْطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ایسا انسان شیطان کا بھائی ہے اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔اس طرح مال تقسیم کرنے سے کسی کو فائدہ نہ ہوگا اور ناشکری پیدا کرے گا۔اخوان الشيطین کہنے میں حکمت یہاں اللہ تعالیٰ نے شیطان نہیں کہا بلکہ شیطان کا بھائی کہا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ دینے والے نے تو اپنی طرف سے اچھی بات ہی سمجھی تھی کہ ایک کی بجائے بہتوں کو دے دیا لیکن حقیقتا