فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 434

فضائل القرآن — Page 134

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 134 ایک یہ بھی نتیجہ ہوگا کہ نیکی مفقود ہو جائے گی۔لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر نقل کرتے ہیں اور خاص طور پر بیٹا اپنے باپ سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ایسی حالت میں کئی بیٹے ایسے ہونگے جو کہیں گے کہ ہمارا باپ بڑا سنگ دل اور بے رحم ہے۔اور بہت سے بیٹے باپ کی اس حرکت کو دیکھ کر خود بخیل ہو جائیں گے۔کئی ایسے ہو نگے جو کہیں گے کہ ہمارے باپ نے اچھا کیا ہم بھی کسی کو کچھ نہیں دیں گے۔خواہ کوئی ہمارے سامنے بھو کا مرجائے۔غرض یہ ایسی تعلیم ہے کہ اگر اس کی تشریح کی جائے تو دنیا کے لئے سخت خطرناک اور نقصان رساں ثابت ہوسکتی ہے۔صدقہ کے متعلق تو رات کی تعلیم اب تو رات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تورات نے یہ تو نہیں کہا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سارے کا سارا دے دو بلکہ صدقہ کے متعلق یہ تعلیم دی ہے کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر اس کی تکلیف کو دور کرنا چاہئے۔گویا تو رات صدقہ کی علت غائی یہ بتاتی ہے کہ مصیبت زدوں کی امداد کی جائے۔پھر تورات صدقہ کی دو قسمیں قرار دیتی ہے ایک واجبی اور دوسری نفلی۔یہ انجیل سے یقینا اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے اور دونوں قسم کے صدقے ضروری ہیں۔بیشک رحم کے ماتحت صدقہ دینا بھی ضروری ہے لیکن اگر رحم کے ماتحت ہی صدقہ دیا جائے تو اس کا برا نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کبر اور نخوت پیدا ہو جاتی ہے۔جب انسان یہ سمجھے کہ میں بڑا اور فلاں چھوٹا ہے اور میں چھوٹے کی امداد کرتا ہوں تو اس طرح رکبر پیدا ہوتا ہے کیونکہ انسان خیال کرتا ہے کہ فلاں میرا محتاج ہے حالانکہ دنیا کا ہر انسان دوسرے کا محتاج ہے۔دنیوی لحاظ سے سب سے بڑی ہستی بادشاہ کی بجھتی جاتی ہے لیکن بادشاہ بھی ماتحتوں کے ذریعہ ہی بادشاہ بنتے ہیں اور وہ ماتحتوں کے محتاج ہوتے ہیں اور یہ خیال کہ میں بڑا ہوں اور مجھے کسی کی احتیاج نہیں دوسرے لوگ میرے محتاج ہیں، اس کی روحانی زندگی کو کچل دینے اور اللہ تعالیٰ سے دُور کر دینے والا خیال ہے۔اس کی بجائے ہمارے اندر یہ خیال پیدا ہونا چاہئے کہ ہم نے اگر کسی کی مدد کی تو اس کی مدد نہیں کی بلکہ اپنی مدد کی ہے۔اور یہ خیال اسی طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ جسے کچھ دیا جائے اس کے متعلق سمجھا جائے کہ یہ اس کا حق تھا۔یا جو کچھ دیا گیا ہے اپنے فائدہ کے لئے دیا گیا ہے۔دیکھو ماں اپنے بچہ کو دودھ پلاتی ہے تو اس پر رحم کر کے نہیں پلاتی بلکہ فطرتی جذ بہ