فضائل القرآن — Page 104
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 104 اس سے اسلام نے نہ روکا ہو۔یا اس کے متعلق خاص طریق عمل کا ارشاد نہ کیا ہو۔یہ مختصر مگر اس کی تعلیم سے مکمل ہونے کا ایک اہم ثبوت ہے۔عالم معاد کے متعلق اسلام کی جامع تعلیم (۴) چوتھا امر جس کے متعلق ہدایت دینا مذہب کا اہم فرض ہے وہ معاد کے متعلق ہے یعنی وہ بتائے کہ مرنے کے بعد انسان کی کیا حالت ہوگی؟ اسلام اس بارہ میں بھی مفصل بحث کرتا ہے۔جسے اس موقعہ پر تفصیلا تو بیان نہیں کیا جاسکتا۔لیکن دو آیتیں اس کی تائید میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَقًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ۔۵۹ یعنی کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری پیدائش عبث اور فضول ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف نہیں آؤ گے۔یہ آیت زمین اور آسمان کی پیدائش اور احیاء اور امانت اور اللہ تعالیٰ کی مالکیت کے ذکر کے بعد آئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ انسان میں ہم نے کتنی طاقتیں رکھی ہیں۔کس طرح زمین اور آسمانوں کو اس کے لئے مسخر کیا۔اس کے لئے چاند اور سورج پیدا کئے۔ان کے اثرات رکھے۔پھر انسان کے اندر قابلیتیں ودیعت کیں۔کیا یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا ہے کہ انسان دنیا میں کھائے پیئے اور مرکز ختم ہو جائے، یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔انسان کے لئے بہر حال ایک اور زندگی ہونی چاہیئے جس میں وہ اپنے اعمال کا جوابدہ ہو اور جو اس کی پیدائش کی غرض کو تکمیل تک پہنچانے والی ہو۔پھر سورۃ قیامہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لاَ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيمَةِ۔وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَامَةِ ايَحْسَبُ الْإِنْسَانُ الَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ " یعنی میں مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔اس پر کہا جا سکتا ہے کہ جس چیز کی دلیل دینی تھی اسی کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔مگر ذرا آگے پڑھیں تو بات واضح ہو جاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں قیامت سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے کیونکہ نبی کی بعثت بھی ایک قیامت ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتا ہے۔يَسْئَلُ آيَانَ يَوْمُ الْقِيمَةِ۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ۔وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ 1 یعنی لوگ پوچھتے ہیں کہ قیامت کا دن کب ہوگا ان سے کہہ دو کہ یہ وہ