فضائل القرآن — Page 105
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 105 زمانہ ہوگا جب نظر پتھر جائیگی۔یعنی نئے نئے علوم نکلیں گے اور انسان حیران رہ جائیں گے ومجمع الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ اور چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔اس وقت انسان کہے گا کہ اب میں بھاگ کر کہاں جا سکتا ہوں۔یہاں قیامت سے مراد مسیح موعود کا زمانہ ہے اور اسے قیامت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اور بتایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب مسلمانوں کی تباہی اور بربادی انتہا کو پہنچ چکی ہوگی اس وقت خدا تعالیٰ پھر ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق ہے کہ مسلمان تباہ و برباد ہونے کے بعد پھر ترقی کریں گے اور اس بات کا پورا ہونا بتا دے گا کہ قرآن ایسے منبع سے نکلا ہے جہاں سے کوئی بات غلط نہیں نکلتی۔جب یہ بات پوری ہو جائے گی تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ مرنے کے بعد کے متعلق بھی قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ بھی ضرور پورا ہوگا۔دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ انسان کے اندر جو نفس تو امہ رکھا گیا ہے وہ بھی قیامت کا ثبوت ہے۔انسان جب کوئی گناہ کی بات کرتا ہے تو اس پر اس کا نفس اسے ملامت کرتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ بھی جب جھوٹ بول رہا ہوتا ہے تو سمٹتا اور سکڑتا جاتا ہے کیونکہ نفس لوامہ جو اس کے اندر موجود ہے وہ اسے شرم دلا رہا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہی نفس تو امہ جس کے نتیجہ میں انسان محسوس کرتا ہے کہ اخلاق کیا ہیں اور بداخلاقی کیا ہے۔گناہ کیا ہے اور ثواب کیا ہے۔اس بات کا ثبوت ہے کہ قیامت کا بھی ایک دن مقرر ہے ورنہ اس کے اندر ندامت کا یہ احساس کیوں پیدا ہوتا۔اسی طرح قرآن کریم عذاب اور انعام کی تمام تفصیلات بتاتا ہے اور ان کی حکمتیں بتاتا ہے اور سزا اور اس کی غرض اور انعام اور اس کا مقصد اور طریق سزا اور طریق انعام غرض ہر ایک پہلو پر مفصل روشنی ڈالتا ہے جس کی مثال دوسری کتب میں بالکل نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو ناقص طور پر۔پس ضرورت مذہب کے بیان کرنے میں بھی اسلام دوسرے مذاہب سے افضل ہے۔خدا تعالٰی سے اتصال پیدا کرنے اور روحانی طاقتوں کو تکمیل تک پہنچانے والا مذہب (۵) اب میں پانچویں بات بیان کرتا ہوں کہ جوضرور تیں کوئی مذہب پیش کرے اس کا فرض ہے کہ وہ انہیں پورا بھی کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب