فضائل القرآن — Page 93
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ قابلیت کی وجہ سے۔بہر حال روح کی پیدائش بھی امریعنی گنی کہنے سے ہے اور اس کی ترقی بھی 93 امریعنی کلام الہی سے ہے اور اس کا ابدی قیام بھی امریعنی قضائے الہی سے وابستہ ہے۔پھر فرمایا کہ انسانی روح کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آپ ہی کمال حاصل کر سکتی ہے اور آپ ہی تعلیم بیان کر سکتی ہے مگر یہ غلط ہے وَمَا أُوتِيتُم مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا روح کے متعلق جو انسانی معلومات ہیں وہ نہایت ناقص اور نا تمام ہیں جس طرح اور غیر مادی اشیاء مثلاً ذات باری یا ملائکہ کے متعلق اس کے معلومات ناقص ہیں۔اس کے لئے خدا تعالیٰ کا الہام ضروری ہے جس کے امر سے یہ سب کچھ ہے۔اسی طرح اس کی مخفی طاقتوں کا ابھارنا بھی امر پر ہی منحصر ہے۔تم خود اپنے طور پر اس میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ سوال اس زمانہ میں بڑے زور سے پیدا ہو رہا ہے کہ انسان یا تو خودروحانیت میں کمال پیدا کر کے روحانی تعلیم بنا سکتا ہے یا پھر دوسری روحوں سے تعلق پیدا کر کے ان کی امداد سے ایسی تعلیم ایجاد کر سکتا ہے۔اس وہم میں اس زمانہ کے بڑے بڑے لوگ مبتلا نظر آتے ہیں کہ روحیں انسان کو روحانیت کا اعلیٰ رستہ بتادیتی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ انسانی روح میں جو کمی رہ جاتی ہے وہ مردوں کی روحیں پوری کر دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تمہارا خیال ہے کہ تم خود روحانی طاقتوں کو ترقی دیگر اعلیٰ درجہ کی روحانی تعلیم بنا سکتے ہو۔اسی طرح تمہارا خیال ہے کہ محمد رسول اله سال نو ایم نے آپ ہی آپ یہ کتاب بنالی ہے اس پر خدا کی طرف سے الہام نازل نہیں ہوا۔اس کی اپنی روحانی طاقت اس قدر ترقی کر گئی تھی کہ اس سے خود بخو دایسی باتیں صادر ہونے لگ گئیں۔مگر یہ درست نہیں کیونکہ انسانی طاقتیں اتنی نہیں ہیں کہ ایسا کلام بنا سکیں۔انسانی عقل کا اپنے آپ روحانی رستہ تجویز کرنا تو الگ رہا وَلَئِن شئنَا لَنَذْ هَبَنَ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تجد لك بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا۔اگر یہ قرآن جو نازل شدہ ہے اسی کو ہم تمہاری نظر سے اوجھل کر دیں تب بھی تم اپنی روحانی قوتوں کو نشو و نما دے کر ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔یعنی اگر ہم یہ بنی بنائی تعلیم ہی دنیا سے غائب کر دیں تو پھر بھی انسان اس جیسی تعلیم نہیں بنا سکتے۔کہا جا سکتا تھا کہ یہ قرآن کا محض ایک دعوی ہے کہ اگر قرآن کریم کی تعلیم غائب ہو جائے تو انسان اس جیسی تعلیم نہیں لا سکتے ، اس کا ثبوت کیا ہے؟ یہ ثبوت بھی اللہ تعالیٰ نے پیش کر دیا ہے۔