فضائل القرآن — Page 91
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ اور وہ بلا مز دانعام نہ کرتا تو انسان اپنے پیدا کرنے والے کا شکر بھی ادا نہ کر سکتا اور ایک بلا عمل ہستی رہ جاتا۔شکور کے لفظ میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے کے لئے قلب میں شکریہ کے احساسات کا پیدا ہونا ضروری ہے۔اور یہ احساسات بغیر رحمانیت کی صفت کے پیدا نہیں ہو سکتے۔اسی طرح اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ رحمانیت کے بغیر وہ اعلیٰ متحرک عمل جو بے نفسی کا موجب ہوتا ہے پیدا نہ ہوسکتا کیونکہ سب کچھ نتیجہ عمل میں ملتا تو ہر عمل لالچ کی وجہ سے ہوتا۔مگر چونکہ احسان موجود ہے اور خدا تعالیٰ نے ہر انسان پر اس کے عمل کرنے کے قابل بننے سے پہلے نعمتیں نازل کی ہیں۔اس لئے اعلیٰ انسان اپنے اعمال کو طلب صلہ کی بجائے شکر ماضی کے ماتحت لے آتا ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ کی شکر گذاری کرتا اور اس کے احکام بجالاتا ہے۔نہ اس لئے کہ اب اسے کچھ ملے بلکہ اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پہلے احسانات کا شکر ادا کرے۔اس طرح مومن کے دل میں لالچ اور طمع کو نکال دیا اور محض خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا جذبہ اس میں پیدا کیا۔غرض تکمیل صفات اور دلائل صرف قرآن کریم نے دیئے ہیں۔باقی کتب صرف دُعا میں بطور ایک ٹونے کے خدا تعالیٰ کے اسماء کو استعمال کرتی ہیں اور وہ ذرہ بھر بھی متشابہ صفات کے فرق اور ان کے دلائل پر روشنی نہیں ڈالتیں۔انسان کی روحانی طاقتوں کا بیان دوسرا امر جس کا بیان ایک الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے انسان کی روحانی طاقتوں کا بیان ہے۔اس مضمون پر بھی قرآن کریم نے بلکہ صرف قرآن کریم نے ہی روشنی ڈالی ہے دوسری کتابوں میں یہ بات نہیں ملتی۔یا تو اس لئے کہ جس وقت وہ نازل ہوئیں اس وقت اس قدر روحانی ارتقاء نہ تھا۔یا پھر ان کے بگاڑ کے زمانہ میں جو بھی تعلیم ان میں تھی وہ ضائع ہو گئی۔مگر قرآن کریم کو دیکھو اس میں ایک اعلیٰ طریق سے ان باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔91