فضائل القرآن — Page 41
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 41 اقسام بھی ایک درجہ رکھتی ہیں۔ایک چیز ایسی ہے جو ایک کروڑ انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے اور ایک اور ہے کہ وہ بھی ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچاتی ہے لیکن ان میں فرق یہ ہو کہ ایک صرف ایک قسم کے لوگوں کو نفع پہنچائے۔مثلاً عیسائیوں یا ہندوؤں کو مگر دوسری ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچائے۔لیکن عیسائیوں ، ہندوؤں، یہودیوں اور مسلمانوں سب کو نفع پہنچائے تو اسے افضل قرار دیا۔جائے گا۔غرض وسعت اقسام افراد کے لحاظ سے بھی ایک چیز افضل قرار دی جاتی ہے اس میں بھی مجھے قرآن کریم کی دوسری کتب پر فضیلت نظر آئی۔کھوٹ سے مبر اہونے کے لحاظ سے فضیلت دسویں۔اس لحاظ سے بھی کسی چیز کی فضیلت کو دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کوئی کھوٹ تو نہیں ملا ہوا۔جس چیز میں کھوٹ نہ ہوا سے دوسری چیزوں پر فضیلت دی جاتی ہے۔اس میں بھی قرآن کریم تمام کتب الہیہ سے افضل پایا گیا۔یقینی فوائد کے لحاظ سے فضیلت گیارہویں۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کھوٹ سے تو پاک ہوتی ہیں مگر ان کے نفع کے متعلق اطمینان نہیں ہوتا۔یہ احتمال ہوتا ہے کہ ان کے استعمال میں کوئی غلطی نہ ہو جائے جس کی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑے۔لیکن جس کے استعمال کے متعلق غلطی کا کوئی احتمال نہ ہو اور اس کے فوائد کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہوا سے اختیار کر لیا جاتا اور اس کی فضیلت تسلیم کر لی جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کو فضیلت حاصل ہے۔ظاہری حسن کے لحاظ سے فضیلت بارہویں۔ظاہری حسن کی وجہ سے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دے دی جاتی ہے۔قرآن کریم اپنے ظاہری حسن کے لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا گیا۔