فضائل القرآن — Page 411
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 411 لا ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف سچی اور پاکیزہ روحیں بلند ہوتی ہیں۔الْكَلِمُ الطیب یعنی خدا کا کلام جن کو میسر ہو وہ ترقی کر جاتے ہیں مگر خالی کلام نہیں بلکہ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه اعمالِ صالحہ کا اُسے سہارا چاہئے۔گویا الكَلِمُ الطیب ایک پرندہ ہے مگر وہ اکیلا نہیں اڑ سکتا بلکہ اعمال صالحہ کی مدد سے صعود کرتا ہے۔اسی طرح اُس کے دو پر بن جاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ آسمان روحانیت کی طرف پرواز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ پرندے کی دو خاصیتیں ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ اونچا جاتا ہے یعنی فضا میں اُڑتا ہے دوسرے یہ کہ اُس کا آشیانہ ہمیشہ اونچا ہوتا ہے۔جو پرندے آشیانوں میں رہتے ہیں وہ درختوں کی ٹہنیوں پر آشیانہ بناتے ہیں اور جو بغیر آشیانے کے رہتے ہیں وہ بھی درخت پر بسیرا کرتے ہیں نیچے نہیں بیٹھتے۔اب یہی دو خاصیتیں قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا قِيْلَ انْظُرُوا فَانْظُرُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتٍ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔اے مومنو! جب تمہیں کہا جائے کہ اُٹھو! تو فوراً اُٹھ کھڑے ہوا کرو اور نبی یا اُس کے خلیفہ کی آواز پر دوڑ پڑا کرو کیونکہ يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا لُعِلْمَ دَرَجَتٍ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو تم میں سے مومن ہیں اور علم حقیقی رکھنے والے ہیں اونچا کر دے گا اور انہیں درجات میں بڑھا دے گا۔گویا او پر اڑنے کی خاصیت کا مومنوں کے تعلق میں ذکر آ گیا۔دوسری خاصیت یہ تھی کہ پرندہ ہمیشہ اپنا آشیانہ اونچا بناتا ہے اس کا بھی مومنوں میں پایا جانا قرآن کریم سے ثابت ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُةِ وَالْأَصَالِ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوة وإيتاء الزكوة ے ہ نور کچھ گھروں میں ہے جن کے متعلق ہمارا حکم ہے کہ انہیں اونچا کر دیا جائے۔ان گھروں میں خدا کا نام لیا جاتا ہے اور صبح و شام اس کی تسبیح کی جاتی ہے مگر فرماتا ہے دجال ہماری مراد گھروں سے نہیں بلکہ آدمیوں کو اونچا کرنے سے ہے ایسے آدمیوں کو جن کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے قیام اور زکوۃ کی ادائیگی سے نہ تجارت غافل کرتی ہے اور نہ بیچ۔گویا پرندے کی جو دو خاصیتیں تھیں ان دونوں کا مومنوں کے اندر پایا جانا بھی بیان کر لا