فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 434

فضائل القرآن — Page 370

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 370 2 وسیع ہوتا ہے کہ انسان اُسے سمجھ نہیں سکتا جب تک کسی خاص طریق سے اُسے ذہن کے قریب نہ کر دیں۔مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑی محبت کرتا ہے تو اس پر بچہ پوچھتا ہے کہ کتنی محبت کرتا ہے؟ تو اگر ہم اُسے کہہ دیں کہ ماں سے بھی زیادہ تو وہ فوراً بات سمجھ جائے گا حالانکہ ماں کی محبت اور خدا تعالی کی محبت میں کوئی نسبت ہی نہیں۔اسی لئے بعض مذاہب نے یہ کہہ دیا ہے کہ خداماں ہے، خدا باپ ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کو سمجھ ہی نہیں سکتا تھا جب تک استعارہ کے رنگ میں اسے ادا نہ کیا جائے۔تو استعارہ اور تشبیہہ نہایت ضروری چیز ہے اور کلام کا ویسا ہی اہم جزو ہے جیسے اور الفاظ اور اسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جا سکتا۔جہاں وسعتِ مضمون ہوگی اور جہاں تھوڑے الفاظ میں مضامین کا ادا کرنا ناممکن ہو گا وہاں استعارہ ہی استعمال کرنا پڑے گا بلکہ خود الفاظ بھی ایک قسم کا استعارہ ہی ہیں۔مثلاً جب ہم گھوڑا کہتے ہیں تو یہ خود ایک استعارہ ہوتا ہے۔ورنہگ و ژاور الف کا گھوڑے سے کیا تعلق ہے؟ پس یہ ایک تشبیبہ اور استعارہ ہے جو انسانی کلام میں تجویز کیا گیا۔ورنہ اگر گھوڑے کی تشریح کی جاتی تو بڑی مشکل پیش آجاتی۔جیسے مشہور ہے کہ کوئی حافظ صاحب تھے جنہوں نے کبھی کبھیر نہیں کھائی تھی۔ایک دن کسی نے اُن کی دعوت کی اور شاگرد نے آکر بتایا کہ آج اُس نے کھیر پکائی ہے۔وہ کہنے لگے کھیر کیا کھانا ہوتا ہے؟ اُس نے بتایا کہ میٹھا میٹھا اور سفید سفید ہوتا ہے۔اب حافظ صاحب نے چونکہ رنگ بھی کبھی نہ دیکھے تھے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ سفید رنگ کس طرح کا ہوتا ہے؟ شاگرد کہنے لگا بنگلے کی طرح ہوتا ہے۔حافظ صاحب پوچھنے لگے اگلا کس طرح کا ہوتا ہے؟ اس پر شاگرد نے ہاتھ کی شکل بگلے کی طرح بنائی اور اُس پر حافظ صاحب کا ہاتھ پھیر دیا۔حافظ صاحب نے فورا شور مچادیا اور کہنے لگے جاؤ جاؤ میں ایسی دعوت میں شریک نہیں ہوسکتا۔یہ کھیر تو میرے گلے میں اٹک کر مجھے مار ڈالے گی۔یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ بنگلے سے فلاں چیز مراد ہے ، گھوڑے سے فلاں چیز مراد اور گدھے سے فلاں چیز تو کوئی گھوڑے کو گدھا سمجھے گا اور بھینس کو گھوڑا۔پس استعارہ انسانی کلام کا ایک ضروری جزو ہے اور اسے کسی صورت میں بھی ترک نہیں کیا جاسکتا۔