فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 434

فضائل القرآن — Page 359

فصائل القرآن نمبر۔۔۔359 کہ ان مسائل کے بار یک مطالب بھی ہیں۔وہ صرف سطحی نظر رکھتے اور غور وفکر سے محروم رہتے مگر اب اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو اس طرح پھیلا دیا اور ایک دوسرے میں داخل کر دیا ہے کہ انسان کو ان کے نکالنے کے لئے غور وفکر کرنا پڑتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک سمندر ہے۔(ج) یہ ترتیب اس لئے بھی اختیار کی گئی ہے تا خشیت الہی پیدا ہو کیونکہ خشیت الہی پیدا کرنے کے لئے یہ ترتیب ضروری تھی۔مثلاً اگر یوں مسائل بیان ہوتے کہ وضو یوں کروں گی اس طرح کرو، عبادت اس طرح کرو، اتنی رکعتیں پڑھو تو خشیت الہی پیدا نہ ہوتی۔جیسے عبادت وغیرہ کے تمام مسائل قدوری اور ہدایہ وغیرہ میں بھی مذکور ہیں مگر قدوری اور ہدایہ پڑھ کر کوئی خشیت اللہ پیدا نہیں ہوتی لیکن وہی مسئلہ جب قرآن میں آتا ہے تو انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے لبریز ہو جاتا ہے۔اس لئے کہ قرآن ان مسائل کو خشیت اللہ کا ایک جز و بنا کر بیان کرتا ہے الگ نہیں اور در اصل نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ وغیرہ مسائل کا اصل مقصد تقویٰ ہی ہے۔پس قرآن تقویٰ کو مقدم رکھتا ہے تا جب انسان کو یہ کہا جائے کہ وضو کرو تو وہ وضو کرنے کے لئے پہلے ہی تیار ہو۔اسی طرح جب کہا جائے کہ نماز پڑھو تو انسان نماز پڑھنے کے لئے پہلے ہی تیار ہو۔اگر قرآن میں نماز کا الگ باب ہوتا تو اُسے پڑھ کر خشیت اللہ پیدا نہ ہوتی۔پس الہامی کتاب چونکہ اصلاح کو مقدم رکھتی ہے اس لئے وہ سطحی ترتیب کو چھوڑ کر ایک نئی ترتیب پیدا کرتی ہے جو جذباتی ہوتی ہے۔یعنی قلب میں جو تغیرات پیدا ہوتے ہیں الہامی کتاب اُن کا ذکر کرتی ہے۔یہ نہیں کہ وہ وضو کے بعد نماز کا ذکر کرے بلکہ وہ وضو سے روحانیت، طہارت اور خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف انسان کو متوجہ کرے گی کیونکہ وضو سے طہارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں پھر جب نماز کا مسئلہ آئے گا تو یہ نہیں ہوگا کہ اللہ تعالی نماز کے مسائل بیان کرنا شروع کر دے بلکہ سجدہ اور رکوع کے ذکر سے جو جذبات انسانی قلب میں پیدا ہوتے ہیں اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ اُسے اپنی طرف متوجہ کرے گا تا جو جذبات بھی انسان کے اندر پیدا ہوں اُن سے وہ ایسا اثر لے جو اُسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دے۔قلبی واردات کی دو مثالیں پس ترتیب قرآن ظاہر پر مبنی نہیں بلکہ قلب کے جذبات کی لہروں پر مبنی ہے اور یہ لہریں