فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 434

فضائل القرآن — Page 336

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 336 پانچویں اصولی اصلاح خدا تعالی کی خالقیت کے متعلق پانچویں اصولی اصلاح قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت کے متعلق کی۔بعض لوگ خدا تعالٰی کو تو مانتے ہیں لیکن اُسے خالق تسلیم نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ روح اور مادہ آپ ہی آپ پیدا ہو گئے۔بعض فلاسفروں اور ہندوؤں کا بھی یہی خیال ہے۔جیسا کہ آریہ کہتے ہیں۔قرآن کریم نے اسے رو کیا ہے اور اس کی تردید میں دلیلیں دی ہیں۔فرمایا۔وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ " یہ خیال کہ رُوح اور مادہ اپنے طور پر ہی چلے آتے ہیں بالکل غلط ہے۔ہم نے کسی چیز کو مفرد پیدا نہیں کیا بلکہ ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔چنانچہ تم دنیا کی ایک ایک چیز کو غور سے دیکھ لو تمہیں کوئی چیز مفرد نظر نہیں آئے گی۔سب مرکبات ہیں جو دکھائی دیتے ہیں۔ہر چیز جہات رکھتی ہے۔رنگ رکھتی ہے۔قوام رکھتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے مفردات کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ مرکبات کو پیدا کیا ہے تو یہ کہنا کہ مادہ ازل سے ہے کس طرح درست ہو سکتا ہے۔سائنس نے بھی اسی کی تائید کی ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام چیزوں کو جوڑے کی صورت میں بنایا ہے۔(۲) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِك إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک ہی خدا ہے اور ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔سوائے اس کے جس پر خدا کی توجہ ہوگئی۔تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔یہاں بتایا کہ ہر چیز تباہ ہورہی ہے۔کوئی ایسی چیز دکھاؤ جومٹتی نہیں۔جن چیزوں کے متعلق سمجھا جاتا تھا کہ وہ تباہ نہیں ہوتیں۔اُن کے متعلق اب معلوم ہو گیا ہے کہ وہ بھی تباہ ہو رہی ہیں اور جن کو اب سمجھتے ہیں کہ تباہ نہیں ہورہیں ان کے متعلق آئندہ سمجھ لیں گے کہ وہ بھی تباہ ہو رہی ہیں۔پس ہلاکت بھی ثابت کرتی ہے کہ کوئی چیز اپنی ذات میں قائم نہیں۔پھر فرمایا۔خدا ہر چیز کا حاکم ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب اس نے رُوح اور مادہ کو پیدا ہی نہیں کیا تو ان کے ذریعہ جو چیزیں بنتی ہیں یا بنی ہوئی ہیں اُن کا وہ حاکم کس طرح ہو سکتا ہے۔کیا تم یہ مانتے ہو یا نہیں کہ خدار وح اور مادہ پر حکومت