فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 434

فضائل القرآن — Page 314

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 314 غرض اس پیشگوئی کے مطابق ہر قوم جو اہل کتاب میں سے ہے آپ نے اُسے مثیل یہود قرار دے کر مغضوب یا مثیل نصاری قرار دے کر ضال قرار دیا اور جو قو میں اہل کتاب نہ تھیں اُن کے متعلق عدالت کو اس رنگ میں استعمال کیا کہ فرمایا ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا اور شرک کا ارتکاب کر کے صحیح راستہ سے منحرف ہوگئی ہیں۔گو یا گناہ کا لفظ جو انجیل میں استعمال ہوا ہے وہ تفریط کے مترادف ہے۔راستی افراط کے مترادف اور عدالت توحید سے بے اعتنائی کے مترادف ہے اور تین ہی گروہ قرآن کریم نے قرار دیئے ہیں۔آٹھویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ایسی باتیں کہے گا جو اس سے پہلے نہیں کہی گئیں۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ تمہیں وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں جو نہ تمہیں معلوم تھیں اور نہ تمہارے باپ دادا کو۔ان باپ دادا میں حضرت موسیٰ بھی شامل ہیں۔نویں بات یہ بات بتائی گئی تھی کہ وہ سب سچائیاں بتائے گا جن کے بعد کسی اور سچائی کی ضرورت نہ رہے گی۔یہ بھی قرآن کریم میں دعویٰ کیا گیا ہے۔فرماتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًاء " آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔دسویں بات یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا بلکہ جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔یعنی اس کا کلام کلی طور پر الہام پر مشتمل ہوگا۔یہ پیشگوئی صرف قرآن کریم پر ہی چسپاں ہوتی ہے۔ورنہ انجیل اور تورات میں تو حواریوں کا کلام بھی درج ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے:۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحی۔22 یعنی وہ اپنی ہوا و ہوس سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ کہتا ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے۔پھر آتا ہے۔وان أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلمَ اللهِ " مشرکین میں سے اگر کوئی کہے کہ مجھے پناہ دو، میں خدا کی باتیں سننا چاہتا ہوں تو تم اُسے بلاؤ تا کہ وہ کلام اللہ سن لے۔گیارہویں بات یہ بتائی تھی کہ وہ میرا جلال یعنی بزرگی ظاہر کرے گا۔یہ بھی رسول کریم صلی