فضائل القرآن — Page 122
122 فصائل القرآن نمبر۔۔۔ہمارے اسلام میں بھی فرق نہیں آسکتا۔اسلام میں کہیں یہ حکم نہیں کہ کسی مسلمان کوکسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت نہیں رہنا چاہئے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳ سال تک مکہ میں مشرکوں کے قوانین کے ماتحت رہے۔باقی رہا یہ کہنا کہ احمدی اگر حقیقی مسلمان ہیں تو گویا ایک مسلمان بھی دنیا میں آزاد نہیں ہے۔میں اس کا بھی قائل نہیں ہوں۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ مومن کسی کا غلام نہیں ہوتا۔بھلا اس شخص کو کون غلام کہہ سکتا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ دنیا کی ساری حکومتیں اور بادشاہتیں بھی اسلام کے خلاف کچھ منوائیں گی تو میں نہیں مانوں گا، وہ غلام کس طرح کہلا سکتا ہے۔اور جو شخص یہ کہے کہ میں بڑی سے بڑی طاقت کی اسلام کے خلاف بات مان لوں گا وہ احمدی نہیں۔پس کوئی احمدی غلام نہیں بلکہ ہر احمدی آزاد ہے۔عیسائیوں کو کیوں حکومت ملی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کی حکومتیں چھن گئیں لیکن عیسائی بھی حضرت مسیح کی کتاب کے خلاف عمل کرتے ہیں پھر ان کو کیوں حکومتیں ملی ہوئی ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سزا اُسی کو دی جاتی ہے جو خزانہ کا محافظ ہو کر غفلت اور سستی کرتا ہے۔عیسائی روحانی خزانہ کے محافظ نہ تھے۔رسول کریم صلی نیا پہ ستم کے آنے کے بعد عیسائی اس خزانہ کی محافظت سے برخاست کر دیئے گئے۔اور رسول کریم سنی ہی ہم کو قبول کرنے کی وجہ سے یہ محافظت مسلمانوں کے سپرد ہو چکی تھی۔اب وہ غفلت کریں تو ان کو سزا دی جائے گی عیسائیوں کو نہیں۔سیح موعود کی بعثت سے مسلمانوں کو کیا طاقت حاصل ہوئی ؟ تیسر اسوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے بڑے افعال کے نتیجہ میں مسلمانوں سے حکومت اور شوکت چھن گئی تو مسیح موعود نے آکر مسلمانوں کو کیا شوکت دی۔ان کے دعویٰ پر چالیس سال کے