فضائل القرآن — Page 121
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔مسلمان محکوم ہوسکتا ہے یا نہیں؟ 121 سائل کا ایک سوال یہ ہے کہ مسلم کو کسی کا محکوم نہیں ہونا چاہئے۔اگر احمدی حقیقی مسلمان ہیں تو معلوم ہوا کہ دنیا میں کوئی مسلمان بھی آزاد نہیں۔یہ صورت حالات کیوں ہے؟ اس سوال کے پہلے حصہ کا جواب تو یہ ہے کہ مسلم کے سوا کوئی محکوم ہوتا ہی نہیں۔مسلم کے معنی ہی فرمانبردار کے ہیں۔پس مسلم محکوم ہوتا ہے مگر اصول کا۔مسلم محکوم ہوتا ہے مگر راستی کا۔مسلم محکوم ہوتا ہے مگر حق کا۔پس جب ہم کسی مسلم کی محکومی کو دیکھیں گے تو یہ معلوم کریں گے کہ اس کی محکومی اسلام کے مطابق ہے یا خلاف۔اگر اس کی محکومی خلاف اسلام ہو تو ہم کہیں گے ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر اسلام کے مطابق ہو تو ہم کہیں گے کہ سچا مومن یہی ہے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنا اسلام کے اصول کے خلاف ہے تو ماننا پڑے گا کہ انگریزوں کے ماتحت احمدیوں کا رہنا بھی خلاف شریعت ہے لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنا اسلام کے خلاف نہیں تو ماننا پڑے گا کہ احمدیوں کا انگریزی حکومت کے ماتحت رہنا بھی خلاف شریعت نہیں بلکہ ماتحت رہنا اسلام کے عین مطابق ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اس مذہب کا ہی نام نہیں جو رسول کریم سان تھا کہ ہم لائے بلکہ ہر نبی جو مذہب بھی لایا وہ اسلام ہی تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق آتا ہے۔اِذْ قَالَ لَهُ رَبةَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ کے یعنی جب الله تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا اسلم مسلمان ہو جاؤ۔تو انہوں نے کہا اسلمت لِرَبِّ الْعَلَمِین میں تو رب TO ANALOG کے لئے پہلے ہی اسلام لا چکا ہوں۔غرض پہلے تمام انبیاء جو دین لائے وہ بھی اسلام ہی تھا۔ان ہی انبیاء میں سے ایک نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ماتحت اس کی حکومت میں رہے۔حالانکہ فرعون کا نام اب گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔پھر ان ہی انبیاء میں سے ایک حضرت عیسی علیہ السلام تھے جو رومی حکومت کے ماتحت رہے جو مشرک تھی۔پس جب ان انبیاء کے اسلام کو غیر مسلموں کے ماتحت رہنے سے کوئی نقصان نہ پہنچتا تھا تو ہم جن کے ماتحت رہتے ہیں وہ تو اہل کتاب ہیں جو ان لوگوں سے اقرب ہیں۔رومی کسی شریعت کے پابند نہ تھے اور نہ فرعون کے پاس کوئی شریعت تھی۔اب اگر ان کی اور ہماری محکومیت میں کوئی فرق ہے تو یہ کہ ہم کم محکوم ہیں اور وہ زیادہ محکوم تھے۔اگر اس محکومیت سے ان کے اسلام میں فرق نہ آیا تو پھر