فضائل القرآن — Page 110
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 110 یعنی اپنے اعمال سے اس کا ثبوت دیتے ہیں۔ہم ان پر فرشتے نازل کرتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں ڈرو نہیں اور نہ کسی پچھلی غلطی کا غم کرو تمہیں جنت کی بشارت ہو۔تم خدا سے جاملو گے اور وہاں تمہیں وہ چیز مل جائے گی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ہم اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے مددگار ہوں گے اور تم اس دنیا میں اور اگلے جہان میں جو کچھ چاہو گے اور جو کچھ مانگو گے وہ تمہیں مل جائے گا۔اس میں بتایا کہ تمہاری قلبی اصلاح بھی ہو جائے گی اور عملی بھی۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے متعلق فرمایا کہ اعْمَلُوا مَا شِتُتُم ۱ تم جو چاہو کر و۔یعنی اب تم بدی کر ہی نہیں سکتے۔اسی طرح یہاں بھی یہی مراد ہے کہ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَبقَى انْفُسُكُمْ تمہارے نفس ایسے پاکیزہ ہو گئے ہیں کہ اب جو کچھ تم چاہو گے پاک چیز ہی چاہو گے۔یعنی تمہارے دل میں نیک تحریکیں ہی ہونگی بری نہیں ہونگی۔اور ہمیشہ پاک چیزیں ہی مانگو گے بری نہیں مانگو گے۔اب سوال ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پچھلے زمانہ پر ہی ختم ہو گیا یا آگے بھی اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔سواس کا جواب بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأميين رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِم أيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔یعنی وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اسی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو اُن کو خدا کے احکام سناتا اور ان کو پاک کرتا اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھاری گمراہی میں مبتلا تھے۔اسی طرح ان لوگوں کے سوا اللہ تعالیٰ ایک دوسری قوم میں بھی اس رسول کو بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ جو کچھ اس رسول کے زمانہ میں ہوا وہی اس زمانہ میں بھی ہوگا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا بند نہ ہو گا۔فائدہ کی شدت کے لحاظ سے قرآن کریم کی فضیلت (۴) فضیلت کی ایک اور وجہ فائدہ کی شدت کے لحاظ سے ہوتی ہے یعنی گو فائدہ تو اور چیزوں