حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ

by Other Authors

Page 4 of 29

حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 4

خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء 4 پہنچیں۔حضور ﷺ کی گردن مبارک سے اوجھڑی ہٹائی اور نہایت غصہ کی نظر ان پر ڈال کر بولیں " شر یرو! اللہ تعالی تمہیں ان شرارتوں کی ضرور سزا دے گا۔‘ (4) سیدہ فاطمہ نے ایسے ہی مشکل حالات میں پرورش پائی۔وہ اپنے عظیم باپ ملے اور صحابہ کرام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھتیں تو بہت پریشان ہوتیں۔لیکن کم سنی کے باوجود ان حالات سے خوفزدہ نہ تھیں بلکہ ہر مشکل کے موقع پر حضور ﷺ کی غمگساری فرماتیں اور کبھی فطری تقاضہ کے تحت رونے بھی لائیں تو آ حضرت ملے انہیں تسلی دیتے اور فرماتے " میری بیٹی گھبراؤ نہیں۔اللہ تعالی تمہارے باپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘ (5) امام جلال الدین سیوطی نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے ابتدائی زمانے میں ایک دن ابو جہل نے سیدہ فاطمہ کو کسی بات پر تھپڑ مار دیا۔کمسن بچی روتی ہوئی حضور ﷺ کے پاس گئیں اور ابو جہل کی شکایت کی۔آپ ﷺ نے فرمایا بیٹا جاؤ اور ابوسفیان کو ابو جہل کی اس جرات سے آگاہ کرو۔سیّدہ فاطمہ ابوسفیان کے پاس گئیں اور انہیں سارا واقعہ سنایا۔ابوسفیان نے حضرت فاطمہ کی انگلی پکڑی اور سیدھے وہاں پہنچے جہاں ابو جہل بیٹھا ہوا تھا۔اُنہوں نے