حضرت فاطمہ ؓ بنتِ اسد — Page 6
حضرت فاطمہ بنت اسد مہربان چی حضرت فاطمہ خود ہی اُن کا حصہ اُن کو دیتی تھیں۔اس ننھی عمر میں بھی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی میں نے سلجھے ہوئے ، خاموش ، باوقار، بچے اور دیانت دار ہونے کے ساتھ ساتھ صلى الله بہت شرم اور حیا والے تھے۔جب سارے بچے ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کر رہے ہوتے تو آپ ﷺ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ جاتے۔اور کبھی اپنا حصہ مانگنے کے لئے دوسرے بچوں سے لڑائیاں نہ کرتے اور اگر حصّہ مل جاتا تو کھا لیتے اور نہ ملتا تو تب بھی بُرا نہ مانتے۔دراصل یہی وہ پیاری پیاری ادائیں ہی تھیں جن کی وجہ سے اس ننھے محمد (ع) کی حضرت فاطمہ کے گھرانے میں اس قدر عزت اور محبت پیدا ہوئی کہ سب کے سب آپ ﷺ پر ایمان لے آئے۔گو کہ با قاعدہ حضرت ابوطالب نے بیعت نہ کی لیکن تمام تکالیف میں ساتھ دیا۔(7) الله حضرت فاطمہ ا یک ماں کی طرح ، جس طرح مائیں اپنے بچوں کی تربیت کے لئے اُن پر کبھی زیادہ سخی بھی کر لیتی ہیں آپ آنحضرت علی پر سختی نہ کرتیں نہ ڈانٹتیں تھیں۔بلکہ اکثر پیار اور محبت کا ہی سلوک فرماتی تھیں۔اگر گھر میں بچے شور شرابہ کر رہے ہوتے تو آپ ﷺ ایک طرف خاموش بیٹھے رہتے۔اس پر حضرت ابو طالب آپ اللہ کا بازو پکڑ لیتے اور کہتے "اے میرے بچے ! تو یہاں کیوں خاموش بیٹا ہے؟ اور پھر