حضرت فاطمہ ؓ بنتِ اسد — Page 12
حضرت فاطمہ بنت اسد 12 دیکھیں کہ کس طرح اس پیارے آقا اللہ نے اپنی چچی کے احسانات کا کتنا بڑا بدلہ دیا کہ جس کی وجہ سے آج ہر انسان حضرت فاطمہ کو انتہائی رشک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ہوا یوں کہ جب ہجرت کے چند سال بعد حضرت فاطمہ نے وفات پائی اور آنحضرت میلے کو آپ کے فوت ہونے کی خبر ملی تو آپ ملے سخت غمگین ہو گئے اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور فوراً اُن کے گھر پہنچے اور میت کے سرہانے کھڑے ہو کر محبت سے فرمایا:۔”اے میری ماں ! اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی بارشیں آپ پر نازل فرمائے ، آپ میری والدہ کے بعد میرے لئے ماں کا درجہ رکھتی تھیں۔آپ خود بھو کی رہتیں اور مجھے جی بھر کے کھلایا۔خود معمولی کپڑے پہنے مجھے اچھا لباس پہنایا ! خود عمدہ کھانے سے ہاتھ روکے رکھتیں اور مجھے وہ کھانا دے دیتیں۔بلا شبہ آپ نے یہ حسنِ سلوک اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کیا“۔پھر جب میت کو غسل دے دیا گیا تو آخر میں کافور والا پانی آپ میلہ نے اپنے ہاتھ سے ڈالا ، اپنا کرتہ دیا یہ پہنا دو۔اور کفن کے اوپر اپنی چادر ڈال دی۔یہی نہیں بلکہ جب جنت البقیع ( مدینہ میں مسلمانوں کے قبرستان کا نام ہے ) میں صحابہ نے قبر تیار کر دی تو آپ علیہ خود قبر میں اُترے اور لحد کے لئے مٹی اپنے مبارک ہاتھوں سے نکالی۔(لحد اُس جگہ کو