حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب

by Other Authors

Page 11 of 17

حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 11

حضرت فاطمہ بنت خطاب 11 تھا۔فوراً بولیں کہ کلام اللہ کو ہاتھ لگانے سے پہلے غسل کرو۔حضرت عمرؓ اس راہ حق پر چلنے کا پکا ارادہ کر چکے تھے فورا غسل کیا۔باوضو ہو کر قرآن اٹھا کے بڑے احترام اور محبت سے سورۃ طہ کی تلاوت شروع کر دی۔پھر دار الارقم پہنچ کر دروازے پر دستک دی۔دروازہ کھلا حضرت عمرؓ بے تابانہ اندر داخل ہوئے حضور علیہ نے بڑھ کر حضرت عمرؓ کی چادر پکڑ کر فرمایا ابن خطاب کیوں؟ کس ارادے سے آئے ہو؟ حضرت عمرؓ الله نے جواباً کہا ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کے لئے حاضر ہوا ہوں حضور یا اللہ میری بیعت لیجئے۔یہ سن کر فرما مسرت سے حضور مدیا ہے نے اللہ اکبر کہا۔صحابہ نے مل کر جوش ایمان میں اس طرح نعرہ تکبیر بلند کیا کہ مکہ کی پہاڑیاں تکبیر کی آواز سے گونج اٹھیں۔۔تاریخ اسلام کا یہ اہم ترین واقعہ اس حوالے سے بھی نمایاں ہے کہ حضرت فاطمہ نے غیر معمولی بہادری اور ایمانی جرات سے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بھائی کے سامنے توحید و رسالت کا اقرار کیا۔یہ حضرت فاطمہؓ کا ہی حصہ ہے۔بعثت کے تیرھویں سال جب رسول اکرم ﷺ کے حکم سے سلمانوں کے قافلے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو حضرت فاطمہ بھی اپنے شوہر حضرت سعید بن زید کے ہمراہ پہلے ہجرت والے مہاجرین