حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 10
حضرت فاطمہ بنت خطاب 10 کی دعا کی قبولیت کا ثمر تھا۔بہن کے خون آلود چہرے پر نظر پڑتے ہی حضرت عمرؓ کا دل ہل کر رہ گیا۔کچھ دیر خاموش رہے، حضرت فاطمہ اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے ایک داعی کا کام کر چکی تھیں۔دل میں وہ درد تھا جس نے حضرت عمرؓ کو دین حق سے آشنا کر دیا۔حضرت عمرؓ جان چکے تھے کہ اتنا ظلم، اتنا صبر اور اتنا تشد و سہہ کر بھی جو اپنے رستہ سے ہٹنے کا نام نہیں لیتا وہ ضرور خود بھی سچا ہے اور وہ رستہ بھی سیدھا ہے جس پر وہ چل رہا ہے۔آپ نے کہا:۔فاطمہ اب پڑھو جو تم پڑھ رہی تھیں !‘ حضرت فاطمہ نے اپنے جسم سے خون صاف کیا۔بعد از وضو کلام اللہ کی آیات تلاوت کرنا شروع کیں۔خوش الحانی اور سوز و کیف سے حضرت عمر یہ وجد طاری ہو گیا، آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی شمع سے شمع جل چکی تھی ، حضرت عمر کلام الہی کے سحر میں گرفتار ہو چکے تھے۔ان کا دل پگھلتا جا رہا تھا اور وہ یکسر بدل چکے تھے۔قرآن کی آیات سنتے ہی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔غرض آپ کے دل کی دنیا کو جس طرح بدلنا اور پھلنا پھولنا تھا اس کا بیج حضرت فاطمہ کے بے خوف بیان نے ڈال دیا تھا۔تلاوت سننے کے بعد دل میں تجسس پیدا ہوا حضرت عمر نے آگے بڑھ کر اوراق کو ہاتھوں میں لینا چاہا۔حضرت فاطمہ کے دل میں قرآن کا بے حد نقدس