حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 6
حضرت فاطمہ بنت خطاب الله حضور ﷺ نے اس وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے۔اللہ کے خاص کرم سے حضرت ابو بکر کی والدہ بھی ایمان لے آئیں۔یہ ام جمیل فاطمہ بنت خطاب ہیں ( اُمّ جمیل آپ کی کنیت تھی ) یہ وہ اعتماد و اعتقاد تھا جو حضرت ابو بکر صدیق جیسے عظیم صحابی کو حضرت فاطمہ کی ذات پہ تھا۔(2) جس زمانہ میں فاطمہ بنت خطاب اسلام اور رسول پاک ﷺ کی محبت میں ڈوب چکی تھیں ، اس زمانہ میں ان کے نامور بھائی عمر بن خطاب دینِ حق کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔فاطمہ بنت خطاب کو خدا سے محبت ، توحید کے اقرار اور محبوب خدا کو سچا مرسل ماننے کے اقرار میں آزمائشوں سے گزرنا پڑا مگر ہر ایک آزمائش میں کندن (سونا) بن کر نکلیں۔یہ حضرت فاطمہ کا استقلال اور اخلاص ہی تھا جس نے ایک دن رض عمر کو عمر بن خطاب سے فاروق اعظم بنا دیا۔صلى الله یہ بعثت نبوی کا چھٹا سال تھا جب فاطمہ کے بھائی عمر بن خطاب ایک روز ہاتھوں میں تلوار لئے گھر سے اس ارادہ سے نکلے کہ محمد نے کو نعوذ بااللہ قتل کر کے ہی چھوڑیں گے۔ان کے اس ارادے کی یہی وجہ بتائی جاتی ہے کہ جب سرکار دو عالم کے چچا، حضرت حمزہ مسلمان ہوئے تو مشرکین قریش کو بڑی بھاری ضرب لگی ، انہوں نے مشتعل ہو کر ایک مجمع اکٹھا کیا جس میں ابو جہل نے اپنی تقریر میں محمد عدلیہ کو قتل کرنے والے کو