حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب

by Other Authors

Page 9 of 17

حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 9

حضرت فاطمہ بنت خطاب جلدی سے سمیٹ کر نہایت جرات و بہادری سے آگے بڑھیں اور دروازہ کھول دیا۔حضرت عمرؓ غصے میں بھرے ہوئے کمرہ کے اندر داخل ہوئے۔حضرت فاطمہ جان ہتھیلی پر رکھے ان کا مقابلہ کرنے کو تیار کھڑی تھیں۔حضرت عمر نے زور دار آواز میں پوچھا میں سن چکا ہوں تم دونوں نے محمد ﷺ کا دین اختیار کر لیا ہے۔اتنا کہہ کر حضرت عمر نے اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید کو گھیرے میں لے لیا اور مارنا شروع کر دیا۔حضرت فاطمہ شوہر کے بچاؤ کے لئے آگے بڑھیں تو خود بھی حضرت عمر کی زد میں آگئیں۔دونوں لہولہان ہو گئے ، حضرت فاطمہ نے بڑی دلیری سے کہا: ” تم نے جو سنا ہے، سچ سنا ہے! ہم خدا اور اس کے صلى الله رسول ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں ، جو کر سکتے ہو کر لو ہم دین حق کو نہیں چھوڑیں گے ! ایک اور روایت میں حضرت فاطمہ نے یہ کہا:۔”بھائی بہن کو بیوہ کیوں کرتے ہو؟ بیشک پہلے مجھے ہلاک کر ڈالو الیکن اب دین حق دل سے نہیں نکل سکتا انہیں نکل سکتا ! ہمارا خاتمہ صلى الله دین محمد ﷺ پر ہی ہوگا ! بہن کے اس مضبوط ایمان کے اظہار واقرار سے عمر حیران رہ گئے اور ایک ایسے لمحے کی زد میں آگئے جو خدا کی قدرت سے رسول پاک میں نے