فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 27
MA ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات دعوت مباہلہ کے بعد ساری دنیا میں حضرت امام جماعت احمدیہ کو خدا تعالٰی نے ایسی عزت و مکرمت عطا فرمائی کہ بیسیوں ممالک کا آپ نے سفر کیا اور ہر ملک کی سرزمین نے آپ کے قدم لئے۔سربراہان مملکت اور بڑے بڑے وزراء نے آپ کے استقبال کو فخر جانا۔کئی ملکوں میں شہروں کی چابیاں آپ کی خدمت میں پیش کی گئیں۔ہر ملک اور ہر دیار جہاں آپ نے قدم رکھا فتح و شادمانی اور کامیابی و کامرانی نے آپ کے قدم چومے۔درجن بھر ملکوں کے وزراء اور اراکین پارلیمینٹ جلسہ سالانہ اگست ۱۹۸۹ء میں اپنے اپنے ملکوں کے وفود لے کر آئے اور ببانگ دہل جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات پر اپنی اپنی حکومت کی نمائندگی میں خراج تحسین پیش کیا۔مولوی منظور چنیوٹی صاحب! یاد کریں جب آپ کو مخاطب کر کے عزت مآب امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء کے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ " انشاء اللہ ستمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے۔اگر منظور چنیوٹی زندہ رہا تو ایک ملک اس کو ایسا نہیں دکھائی دے گا کہ جس میں احمدیت مر گئی ہو اور کثرت سے ایسے ملک دکھائی دیں گے جہاں پر احمدیت از سر نو زندہ ہوئی ہے یا احمدیت نئی شان سے داخل ہوئی ہے۔یہ نوشتہ تقدیر اپنی پوری تابندگیوں اور رعنائیوں کے ساتھ جماعت احمدیہ کے حق میں پورا ہو رہا ہے۔جہاں تک تائیدات اور نوازشات الیہ کا تعلق ہے اور غیر معمولی طور پر رحمتیں اور برکتیں اور افضال برسانے کا تعلق ہے اس پہلو سے ان مخالفین کا دامن کلینہ تہی ہے جبکہ اس کے مقابلہ پر جماعت احمدیہ کو دنیا بھر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی عالمگیر شہر تیں ، عظمتیں اور عزتیں ملی ہیں کہ اس کی نظیر دنیا کی کسی اور جماعت میں دکھائی نہیں دیتی۔ہ یاد رہے کہ ستمبر ۱۹۸۹ء کے متعلق منظور چنیوٹی صاحب نے کہا تھا کہ ” میں ۱۵۔ستمبر ۱۹۸۹ء تک زندہ رہوں گا تاہم قادیانی جماعت اس وقت تک زندہ نہیں رہے گی۔" ( روزنامه جنگ - اکتوبر ۱۹۸۸ء)