فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 20 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 20

۲۱ پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں کی رپورٹس جو اخبارات میں شائع ہوتی رہیں ان کی چند جھلکیاں درج ذیل ہیں۔(1) مولوی صاحب نے اپنے ناشائستہ الفاظ واپس لئے اور ایوان سے معذرت کی۔(نوائے وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۱۹۸۹ء ) (۲) سپیکر نے مولوی صاحب کے ریمارکس اور الفاظ کو نازیبا اور ناشائستہ قرار دیا۔مولوی صاحب کو ناشائستہ الفاظ پر تین بار معذرت کرنا پڑی۔مولوی صاحب ناشائستہ خطاب کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔روزنامه حیدر راولپنڈی ۲۲ دسمبر ۱۹۸۸ء) (۳) سپیکر نے مولانا چنیوٹی کو سختی سے کہا کہ وہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔۔۔۔۔مولانا منظور احمد چنیوٹی سپیکر اسمبلی اور ایوان کے فیصلے پر بہت سیخ پا ہوئے اور وہ سپیکر اور ایوان کے خلاف مسلسل نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے۔مولانا منظور احمد چنیوٹی جس وقت واک آؤٹ کر کے جا رہے تھے اس وقت فضل حسین راہی نے کہا کیا ہی اچھا ہو اگر مولانا چنیوٹی ہمیشہ کے لئے واک آؤٹ کر جائیں۔" ( روزنامہ مساوات لاہور ۲۹ - دسمبر ۱۹۸۸ء صفحه ۷ ) (۴) پنجاب اسمبلی میں راہی : ” یہ سرکاری مولوی ہے۔" ذاکر : ” یہ فتوی فروش مولوی ہے۔" (۵) پنجاب اسمبلی میں اسلم گورداسپوری صاحب نے کہا ” مولانا صرف ملک میں فساد چاہتے ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں۔" ( روزنامہ جنگ یکم مارچ ۶۱۹۸۹ ) (۱) ۲۸ فروری ۱۹۸۹ء کو جو اسمبلی میں بحث ہوئی اس میں مولوی صاحب کا رسوائے زمانہ، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلمان رشدی کے ساتھ ذکر کیا گیا بلکہ ان کی قیمت اس سے زیادہ ڈالی گئی۔چنانچہ سلمان تاثیر صاحب رکن اسمبلی نے مولوی صاحب کی یوں عزت افزائی " کی کہ " اگر اس سے کم قیمت لگائی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مولانا صاحب کی توہین ہے۔کیونکہ سلمان رشدی کی قیمت تین ملین ڈالر ہے اور مولانا صاحب کی کم از کم چھ ملین ڈالر