فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 9 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 9

! - جماعت احمد یہ دنیا سے نیست و نابود ہو جائے گی اور جب میں نے اس خطبے میں اس کو پکڑا تو اس کے کچھ عرصہ بعد اس نے یہ اعلان کیا کہ مرزا طاہر زندہ نہیں رہے گا۔جماعت احمدیہ کو میں کیسے مار سکتا ہوں۔اس نے کم سے کم اتنا تو اپنی شکست کا اعتراف کر لیا کہ دنیا میں کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو جماعت احمدیہ کو مار سکے اور اب خود اس بات کو الٹا کر تیسرا جھوٹ یہ بنالیا کہ گویا میں نے یہ کہا تھا کہ یہ ۱۵۔ستمبر تک مرجائے گا۔تو جن کے مباہلے کی بناء جھوٹ پر ہو وہ تو جھوٹے ثابت ہو گئے پھر اور کونسا مباہلہ باقی ہے۔" معزز قار یکین ! مولوی صاحب کی بوکھلاہٹ ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے اپنے سابقہ بیان کی تصحیح کرتے ہوئے ایک ایسا بیان دے دیا جو معلوم ہوتا ہے خدا تعالٰی نے اپنی خاص تقدیر کے تحت انہیں دینے پر مجبور کیا۔چنانچہ انہوں نے اپنے اس پہلے بیان کی جو روزنامہ جنگ لاہور کی ۱۷ اکتوبر کی اشاعت میں شائع ہوا تھا ، ایسی تصحیح کی جو نہ وہ کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی وہ درست تھی۔ان کے اس تصحیح شدہ بیان کا ذرا تجزیہ کریں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں۔جماعت احمد یہ دنیا سے نہیں ملے گی۔-۲- مرزا طاہر احمد ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک ختم ہو جائیں گے۔( نعوذ باللہ ) جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے اس میں تو مولوی صاحب کا اعتراف شکست نمایاں ہے اور ساتھ اس یقین کا اظہار ہے کہ جماعت احمد یہ خدائے قادر و توانا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے جو بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔دوسری بات جو انہوں نے بیان کی اس میں انہیں یہ امید تھی کہ ۱۵ جنوری ۱۹۸۹ء سے ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک چند ماہ میں ایک فرد واحد کا ختم ہو جاتا حد امکان سے باہر نہیں۔چنانچہ انہوں نے اس مذموم اور موہوم امید پر سہارا لینا ہی اپنی عافیت جانا۔اب سوال یہ ہے کہ مولوی صاحب نے حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کے ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک ( نعوذ باللہ ) ختم ہو جانے کی بات کی تھی تو کیا وہ بات -l خدا تعالی سے خبر پا کر کی تھی ؟ یا