فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 6 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 6

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود هو الناصر خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مثال مشہور ہے کہ ایک طاقتور نے ایک کمزور کو مارا تو اس کمزور نے اپنی کمزوری کو چھپانے اور اپنی جھوٹی انا اور اکثر کو قائم رکھنے کیلئے تن کر کہا ' اب کے مار “ اس نے پھر تراخ سے لگائی۔اس نے سنبھل کر پھر کہا اب کے مار اس نے پھر مارا۔اس نے پھر کہا اب کے مار۔۔۔۔وہ مارتا جاتا اور یہ ہر بار یہی کہتا ، اب کے مار قارئین نے سنا ہو گا کہ مولوی منظور چنیوٹی صاحب نے پھر امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ الودود کو مباہلہ کی دعوت دی ہے۔(نوائے وقت لاہور ۲۶ فروری ۱۹۹۱ء اور روزنامه پاکستان لاہور ۲۶ فروری ۱۹۹۱ء ) قارئین کو علم ہو گا کہ مولوی منظور چنیوٹی صاحب ایک عرصہ سے اپنی دوکانداری کو چمکانے کے لئے ایسے اعلان کرتے چلے آ رہے ہیں جو ہمیشہ ہی صدا بصحرا ثابت ہوئے ہیں۔چنانچہ ان کی یہ دعوت مباہلہ بھی ان کے ماتھے پر نامرادیوں کے داغوں میں مزید اضافے کا موجب ہو گی۔بہرحال یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ ان سے کس طرح نمٹتا ہے۔جہاں تک ماضی کا تعلق ہے گزشتہ سالوں میں ان کی جو سیاہ روئی ہوئی وہ پاکستان کے کسی فرد سے پوشیدہ نہیں بلکہ اس کی بازگشت یورپ کی فضاؤں میں بھی بکثرت سنی گئی۔یہاں کے اخبارات نے بھی ان کی ذلتوں کو صفحہ قرطاس پر ہمیشہ کے لئے محفوظ کیا۔معزز قارئین ! قبل اس کے کہ مولوی صاحب مذکور کی ان رسوائیوں کا دفتر کھولیں ، ہم ان رسوائیوں کی اصل وجہ کی طرف آپ کی توجہ منعطف کرنا چاہتے ہیں۔