فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 21 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 21

ہونی چاہیئے۔" ۲۲ : معزز قار یکین ! مولوی صاحب کی ذلتیں تو بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں جو مضمون کی طوالت کا باعث بن رہی ہیں اس لئے اب ہم اختصار کے ساتھ پنجاب اسمبلی کی مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹ میں سے چند نمونے، مٹتے از خروارے صرف جھلکیوں کی صورت میں آپ کے سامنے پیش کر کے اس باب کو ختم کریں گے اور مولوی صاحب کی ذلت کے ایک رخ کا مشاہدہ کریں گے۔اسمبلی کے اجلاس ۲۸ مئی ۱۹۸۹ء میں مولوی صاحب کے متعلق تبصرے :- ا وہ ایک مسلمان کو کافر کہہ کر خود کافر ہو گئے ہیں۔ان کو مولانا نہیں کہا جا سکتا یہ ایک عالم دین کی توہین ہے۔( اس پر منظور چنیوٹی صاحب نے کہا کہ یہ آپ حکومت سے پوچھیں کہ میں مولانا ہوں یا نہیں ) ایک ممبر نے کہا کہ اصل میں ہم لاعلمی میں انہیں مولانا کہتے رہے ہیں۔مولانا کے ایمان کی کمزوری درست کی جائے! ۴۔منظور چنیوٹی بلیک میلر ہے ! ۵- منظور چنیوٹی کا نکاح ٹوٹ گیا ! - اگر ان کا نکاح ٹوٹ گیا تو ان کی اولاد کیا کہلائے گی ؟ ے۔ان کو کوڑے لگائے جائیں! -A -9 کوڑے نہیں اسلام میں دُروں کی سزا ہے ! بقیہ اجلاس کے لئے ان کا داخلہ ایوان میں روک دیا جائے ! - مولانا کی زبان پر کنٹرول کیا جائے ورنہ ہم خود ہی کر سکتے ہیں ! مولانا کو معافی مانگنی چاہئے ورنہ لوگ انہیں فتوی فروشی کا الزام دیں گے! - 10 -I - آخر میں مولانا نے ایوان سے معافی مانگ لی۔