فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 13
۱۴ قبل اچانک پاکستان واپس آگئے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مسٹر نثار چیمہ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں مولانا اسلم قریشی کی موجودگی میں بتایا۔۔۔۔مولانا کی کہانی یہ ہے کہ وہ گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے اور کچھ اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے ملک سے چلے گئے ان کا خیال یہ تھا کہ وہ اس ملک میں اپنے مذہبی عقائد کے مطابق نہیں رہ سکتے اور نہ ہی وہ کچھ کر سکتے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں انہوں نے جو کچھ بتایا اس کے مطابق یہ اپنی ذہنی پریشانی کے سبب یہاں سے نکلے اور ۵۴ ماہ بعد ایران پہنچے۔ہم نے ان کے بیٹے اور بھائی کو بلایا کہ وہ شناخت کرلیں کہ آیا یہ واقعی مولانا اسلم قریشی ہی ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے انہیں کسی ایک ملک یا محدود علاقے میں نہیں ڈھونڈا ہمیں جہاں بھی اطلاع ملی ہم نے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی اس کے نتیجے میں یہ پتہ چل گیا کہ یہ ایران میں ہیں لیکن اب یہ اپنی مرضی سے اسی طرح واپس آگئے ہیں جس طرح یہ اپنی مرضی سے چلے گئے تھے اور یہ سب سے پہلے ہمارے پاس ہی آئے ہیں۔ان کی واپسی کا ہمیں اس وقت ہی پتہ چلا جب یہ ہمارے پاس واپس پہنچے۔" (۲) روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۳ جولائی کے شمارہ میں صفحہ اول پر تین کالی سرخی کے ساتھ یہ خبر شائع کی۔" مولانا اسلم قریشی ساڑھے پانچ سال کی گمشدگی کے بعد اچانک واپس آگئے۔نا مساعد گھر یلو حالات اور ناموافق ماحول کی وجہ سے سکون کی تلاش میں ایران چلا گیا تھا۔قادیانیوں کو پریشان کرنے کے لئے غائب نہیں ہوا۔(مولانا اسلم قریشی) لاہور ۱۳ جولائی (نمائندہ خصوصی) تحریک ختم نبوت کے کارکن اور سیالکوٹ کے عالم دین ، مولانا محمد اسلم قریشی کا معمہ حل ہو گیا اور ساڑھے پانچ سال گم رہنے کے بعد اسلم قریشی خود پاکستان پہنچ گئے۔انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔۔۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسلم قریشی نے کہا کہ میں خود اس لئے گم نہیں ہوا کہ قادیانی اقلیت کو پریشان کروں " (۳) روزنامہ مشرق لاہور نے ۱۳۔جولائی ۱۹۸۸ء کے شمارہ میں صفحہ اول پر ۸ کالمی سرخی میں مندرجہ ذیل خبر شائع کی۔-