فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 12 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 12

سر بازار گولی مولوی منظور چنیوٹی صاحب نے اسلم قریشی کی گمشدگی پر بار بار یہ اعلان کیا کہ اس کے پس پردہ جماعت احمدیہ کی سازش کار فرما ہے۔اس بنیاد پر انہوں نے جو جھوٹے بیانات دیئے اور مفتریانہ کاروائیاں کیں وہ انہیں کو زیب دیتی ہیں۔بلکہ اس افتراء پردازی میں وہ اس قدر اندھے ہو گئے کہ یہ اعلان کر دیا کہ : مجاہد اسلام مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کے سلسلہ میں مرزا طاہر احمد کو شامل تفتیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو چھ آدمیوں کے نام تفتیش کے لئے دیئے تھے جن میں مرزا طاہر احمد بھی شامل ہے۔اگر ان چھ میں ملزم بر آمد نہ ہو تو ہم سیر بازار گولی کھانے کو تیار ہیں۔" (نوائے وقت لاہور - ۱۸ فروری ۶۱۹۸۴ ) اسلم قریشی کو پہلے اغواء شدہ اور پھر مقتول قرار دے کر اس کی متعدد مرتبہ نماز ہائے جنازہ غائب پڑھ دی گئیں اور نہ جانے کتنے جلسے کئے گئے ، کتنے جلوس نکالے گئے ، کتنی تحریکیں چلائی گئیں اور ہنگامے برپا کئے گئے اور معصوم احمدیوں کی جانوں ، مالوں اور جائیدادوں کو نقصان پہنچایا ، مساجد مسمار کیں۔پھر اچانک کیا ہوا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ الوروو کے مباہلہ کے اعلان کے ٹھیک ایک ماہ بعد وہ مبینہ مقتول زندہ ہو کر سامنے آگیا۔سارے ملک میں اس واقعہ کی تشہیر ہوئی۔ملک کے اخباروں اور ٹیلیویژن نے اسے نمایاں طور پر پیش کیا۔شرفاء نے معاندین احمدیت پر لعنتیں ڈالیں۔اس سلسلہ میں اخبارات کے چند اقتباسات آپ کے سامنے پیش ہیں:۔(1) روزنامہ جنگ لاہور نے مورخہ ۱۳۔جولائی ۱۹۸۸ء کو صفحہ اول پر یہ سرخی دیتے ہوئے لکھا: مولانا اسلم قریشی ۵ ساله "پر اسرار گمشدگی کے بعد ایران سے وطن واپس آگئے گھریلو پریشانیوں ، مذہبی عقائد اور ملکی حالات سے دلبرداشتہ ہو گیا تھا۔دو سال پہلے گھر والوں کو اپنے بارے میں خط بھی لکھا تھا ، مجھے علم نہ تھا کہ میرے لئے اتنی بڑی تحریک چل سکتی ہے۔(مولانا اسلم قریشی) " لاہور ( رپورٹنگ ڈیسک) مولانا اسلم قریشی ۵ سال تک روپوش رہنے کے بعد دو روز