"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 45 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 45

۴۵ توجہ کے لائق ہے کہ : ” خدا تعالی کی طرف سے اسی لڑکے کی مجھ میں روح بولی " پس تعجب ہے کہ اگر چشتی صاحب نے یہ کتاب پڑھی تھی تو اس فقرہ پر غور کیوں نہ کیا۔ہر صاحب بصیرت انسان یہ سمجھتا ہے کہ کشف و الہام عالم روحانیت سے تعلق رکھتے ہیں جن کو ہر بار ظاہری دنیا کے پیمانوں سے ناپنے کا نتیجہ بعض اوقات تمسخر کی صورت میں نکلتا ہے۔کیونکہ صاحب کشوف و الہامات بزرگوں کے ایسے تجارب بکثرت اسلامی لٹریچر میں ملتے ہیں کہ جن میں بسا اوقات وفات شده حتی کہ صدیوں پہلے فوت شدہ افراد اگر پیغام دیتے ہیں اور بعض اوقات پیدا ہونے والے بچے کلام کرتے نظر آتے ہیں۔کئی دفعہ پرند چرند بولتے نظر آتے ہیں تو کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ عمارتیں ، شجر و حجر و غیرہ کلام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔حتی کہ عمارتیں چل کر ہزاروں میل کا سفر طے کر آتی ہیں جیسا کہ ایک مرتبہ خانہ کعبہ مجدّد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات کے لئے آیا تھا۔دیکھیں کتاب حدیقه محمودیه ترجمه روضه قیومی ۶۸ از حضرت ابوالفیض کمال الدین سرہندی مطبع بلید پریس فرید کوٹ پنجاب ) اگر چشتی صاحب کے نزدیک یہ قابل اعتراض باتیں ہیں تو یہی اعتراض ان کے تحریر کردہ اس کشف پر بھی آتا ہے جو انہوں نے اپنے اسی رسالہ ” فاتح قادیان " کے صفحہ ے پر بیان کیا ہے۔ہم اس مستند کشف کی صداقت کی بحث میں نہیں پڑتے۔صرف چشتی صاحب سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا امداد اللہ مہاجر مکی صاحب۔پیر مہر علی صاحب پر اپنے ظاہری جسم کے ساتھ رونما ہو گئے تھے اور اپنی ظاہری زبان سے انہوں نے کلام کیا تھا ؟ - ہم چشتی صاحب کے سامنے ان کے بزرگوں کی ایسی متعدد مثالیں پیش کر سکتے ہیں مگر ہمارا مقصد کسی پر اعتراض کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ عالم کشف و الہام کی باتوں کو سمجھنے کے لئے بصیرت کی آنکھ اور تقدس سے معمور سوچ اور سمجھ چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ الہیات سے تعلق رکھتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو بیان فرمایا کہ اس بچے نے پیٹ میں دو دفعہ باتیں کیں۔یہ ظاہری زبان سے کلام نہیں تھا بلکہ آپ نے پہلے کھول کر یہ بیان فرما دیا تھا کہ " خدا تعالی کی طرف سے اسی لڑکے کی مجھ میں روح بولی " چنانچہ اس بچے کی روح کے کلام ، انی اسقط من اللہ و اصیبہ کہ میں خدا کی طرف سے اور خدا کے