"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 46
۴۶ ہاتھوں سے زمین پر گروں گا اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا" کے مطابق اس کی پیدائش اور پھر وفات اس الہام الہی کی صداقت کا بین ثبوت ہے جو اس بچے کی طرف سے خدا تعالٰی نے حکایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل فرمایا۔جہاں تک اس بچے کی روح کے کلام کو حضرت عیسی علیہ السلام کے کلام سے ملانے کا تعلق ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مکمل بیان کے پیش نظر اس کا محض یہ مقصد ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جو مہد میں کلام کرتے تھے وہ بھی خدا تعالی کی عجیب قدرتوں میں سے تھا اور خدا تعالی کی طرف سے اس بچے کی پیدائش سے قبل اس کی روح کا بولنا بھی اسی خدائے ذوا العجائب کی عجیب قدرتوں کا ایک کرشمہ ہے۔اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی مطلب نہیں لیا جا سکتا۔کیونکہ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام ظاہری زبان سے تھا اور یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ” اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی لڑکے کی مجھ میں روح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اس کا میں نے سنا۔“ " مولوی مشتاق احمد چشتی صاحب نے یہاں یہ جو بہتان باندھا ہے کہ " انبیاء علیہ السلام سے ه رشتہ عقیدت توڑ کر اپنا گرویدہ کرنا ان کا نصب العین تھا۔" ( نقل بمطابق اصل ) بیک جنبش قلم رو کرنے کے قابل ہے۔چشتی صاحب احمدیت سے عناد میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ فریب و دجل کی ہر گندگی پر منہ مارنے کیلئے تیار ہیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انبیاء علیم السلام سے رشتہ عقیدت جوڑنے کے لئے اپنی پاک جماعت کو جو تعلیم دی یہ ہے۔فرمایا :- " انبیاء علیهم السلام طبیب روحانی ہوتے ہیں اس لئے روحانی طور پر ان کے کامل طبیب ہونے کی یہی نشانی ہے کہ جو نسخہ وہ دیتے ہیں یعنی خدا کا کلام وہ ایسا تیر بہدف ہوتا ہے کہ جو شخص بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے اس نسخہ کو استعمال کرے وہ شفا پا جاتا ہے اور گناہوں کی مرض دور ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کی محبت میں دل محو ہو جاتا ہے۔" ( چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۳۵) فرمایا