"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 61 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 61

كنت السواد لناظری اعمی علیک الناظر من شاء بعد ک فلیمت فعلیک کنت احاذر کہ اے میرے محبوب تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔پس آج میری آنکھ کی پتلی تیری وفات سے اندھی ہو گئی۔اب تیرے بعد جو چاہے مرتا پھرے۔مجھے تو اک تیری ہی موت کا ڈر تھا۔یہ وہ شعر ہیں جو ایک نابینا شاعر حضرت حسّان بن ثابت نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر آپ کو مخاطب کر کے کہے تھے۔اے آقائے کی دمدنی کی محبت کا دم بھرنے والو دیکھو ! یہ تھی وہ روح جس روح کے ساتھ صحابہ رضوان اللہ علیم نے اپنے محبوب آقا کے ساتھ بیمثال محبت کی۔ان کے نزدیک اگر دنیا میں کوئی انسان زندہ رہنے کا حق رکھتا تھا تو فقط وہ رسول عربی صلے اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور ان کی وفات کے بعد انہیں کچھ بھی اس امر کی پرواہ نہ تھی کہ خطہ ارض پر آنے والے ہر زمانے کے تمام رسول ہزار دفعہ فوت ہو جائیں۔لیکن ہمارے ان کرم فرما علماء کو بھی ذرا دیکھو کہ ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مارے دیتے ہیں اور مسیح ناصری کی زندگی کے کیسے خواہاں ہیں ! ہاں اس کی زندگی کے خواہاں ہیں۔کہ جس کی زندگی خود انہی کے عقائد ان کے دل و جان سے عزیز نظریات اور تمناؤں کی موت ہے۔ہاں اس کی زندگی کے خواہاں ہیں کہ جس کی زندگی کے باطل تصور نے دنیا کو شرق سے تا غرب شرک سے بھر دیا ہے اور عیسائیت کے مقابل پر اسلام کو محض بے دست و پا کر رکھا ہے۔مسیح ناصری را تاقیامت زنده می فهمند مگر مدفون میرب را ندادند این فضیلت را ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مرد دادند دلیری با پدید آمد پرستاران میت را ترجمہ : یہ مسیح ناصری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت نہیں دیتے۔انہوں نے اپنے عقیدہ سے تمام عیسائیوں کی مدد کی اسی وجہ سے مردہ پرستوں میں بھی دلیری آگئی۔سر کو پیٹو آسماں سے اب کوئی آتا نہیں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نہ زندہ موجود ہیں اور نہ ہی وہ آسمان سے اتریں گے بلکہ جس مسیح