"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 93 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 93

۹۳ ابتداء سے لے کر آج تک ، مسلسل سو سال ہو گئے کہ ذلتوں کی مار آپ لوگوں کے گلے کا ہارینی ہوئی ہے۔اس کے ذکر کی ہمیں چنداں ضرورت نہ تھی۔اگر آپ گزشتہ سو سالہ تاریخ کے آئینہ میں اپنا حال دیکھ لیتے اور سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی ہر دعا کو آپ پر ہی کیوں الٹا دیا اور آپ کی ہر تدبیر کو توڑ کر رکھ دیا۔وہ خدا کیوں ایک طرف جماعت احمدیہ کو فتح و نصرت سے نواز رہا ہے تو دوسری طرف آپ لوگوں کو ذلت و ادبار اور ناکامی سے ہمکنار کرتا ہے۔آپ نے سب کچھ مشاہدہ کیا مگر خدا تعالی کے حضور فروتنی کی بجائے شوخی ہی دکھائی۔آپ کو تو زیادہ دور جانے کی بھی ضرورت نہیں تھی گزشتہ دو تین سال میں ہی جھانک کر دیکھ لیتے۔۱۹۸۸ء میں جب حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ الموزر نے جب جماعت احمدیہ کے سرگروہ مخالفین اور آئتہ التکفیر کو مباہلہ کی دعوت دی تو آپ نے بھی اس دعوت کو قبول کیا جس کا ذکر اخبار " ملت " لندن ۲۴ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۸ میں بھی کیا گیا لیکن اس سے قبل آپ نے ماہنامہ ترجمان اسلام ناروے کے ماہ ستمبنی کتوبر کے شمارہ میں یہ لکھا تھا کہ ہم نے تو مرزا صاحب کو مباہلہ کا چیلنج دیا ہوا ہے۔قادیانی اس سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔" پھر آپ نے اسی شمارے میں تحریر کیا کہ اب ہم چوتھی مرتبہ اس مباہلہ کو قبول کر رہے ہیں۔" پھر آپ نے اس مباہلہ کو قبول کرتے ہوئے خدا کے مامور اور اس کے پاک مسیح کے سلسلہ کی ناکامی اور بربادی کے لئے دعائیں کیں۔تو آپ کی اس گریہ وزاری نے خود آپ ہی کی عزت کو چاک کر دیا اور آپ کو ناکام بھی کیا اور برباد بھی اور پھر بد نام بھی۔۱۳ فروری ۸۹ء کو یعنی مباہلہ کی حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے دعوت کے قریباً ۲ ماہ بعد ہی اس رقم کا ۸۰ فیصدی آپ نے اپنے صاجزادے کے نام کروا دیا جو تعلیم کے لئے مسلم بچوں کو حکومت کی طرف سے ملتی تھی۔جسے بعد ازاں مسجد کمیٹی نے آپ کی واضح بد دیانتی سمجھتے ہوئے منسوخ کر دیا۔۲۴ - اگست ۸۹ء آپ نے چند حامیوں کے ذریعہ تحریر پر دستخط کروا لئے کہ مسجد کے لئے جو رقم جمع کی گئی تھی اس کا دو تہائی اہل سنت جماعت کے لئے ہو گا اور ایک تہائی جامعہ اسلامیہ کے