"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 86
AY اکانوے ہزار تھی اور ۱۸۸۷ء میں چار لاکھ ستر ہزار تک پہنچ گئی۔- دوسری طرف آریہ سماج اور برہم سماج کی تحریکوں نے جو اپنے شباب پر تھیں اسلام کو اپنے اعتراضات کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔گویا اسلام دشمنوں کے نرغہ میں گھر کر رہ گیا تھا۔ان سب تحریکوں کا مقصد وحید اسلام کو کچل ڈالنا اور قرآن مجید اور بانی اسلام کی صداقت کو دنیا کی نگاہوں میں مشتبہ کرنا تھا۔آریہ سماج دیدوں کے بعد کسی الہام الہی کی قائل نہ تھی۔اور برہم سماج والے سرے سے الہام الہی کے منکر تھے۔اور مجرد عقل کو حصول نجات کے لئے کافی خیال کرتے تھے۔اور تعلیم یافتہ مسلمان یورپ کے گمراہ کن فلسفہ سے متاثر ہو کر اور عیسائی ملکوں کی ظاہری اور مادی ترقیات کو دیکھ کر الہام الہی کے منکر ہو رہے تھے اور علماء کا گروہ آپس میں تکفیر بازی کی جنگ لڑ رہا تھا۔اسلام کی اس بے بسی و بیکسی کا نقشہ مولانا حالی مرحوم نے ۱۸۷۹ء میں اپنی مستدس میں یوں کھینچا ہے۔رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی پھر ملت اسلامیہ کی ایک باغ سے تمثیل دے کر فرماتے ہیں۔پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر ہری ٹہنیان جھڑ گئیں جس کی جل کر نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل ہوئے روکھ جس کے جلانے کے قابل آواز ہیم وہاں آ رہی ہے کہ اسلام کا باغ ویراں یہی ہے اس ماحول میں جبکہ قرآن مجید کی حقیقت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت خود مسلمان کہلانے والوں پر بھی مشتبہ ہو رہی تھی اور کئی ان میں سے عیسائیت کی آغوش میں آگرے تھے۔عیسائی پادری - آریہ - برہمو بلکہ کل مذاہب اسلام پر حملہ آور تھے۔عیسائیوں کا سب سے زیادہ زور تھا وہ اپنے حکومتی رعب اور فریبانہ چالوں سے چند دنوں میں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت اقدس کے دل میں اللہ جل شانہ و عزاسمہ اور اس کے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آتش عشق شعلہ زن ہوئی اور دینی غیرت و حمیت نے جوش مارا۔حضرت اقدس نے ایک طرف تو " قرآن مجید " کے گہرے سمندر میں غوطہ