"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 87 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 87

زن ہو کر حقائق و معارف کے قیمتی جواہرات اور ڈرر ثمینہ نچھاور کئے۔اور دوسری طرف اسلام پر سائنس و هیئت و فلسفه و طبیعات وغیرہ جملہ علوم کے لحاظ سے اعتراضات کے ایسے دندان شکن جوابات دیئے کہ مذہبی دنیا میں تہلکہ مچ گیا اور اسلام کا روشن اور چمکدار سورج بے نقاب ہو کر دنیا کو جگمگانے لگا۔اس وقت حضرت اقدس مسلمانوں کی زبوں حالی اور اسلام کی حالت زار دیکھ کر تڑپ اٹھتے۔چنانچہ آپ کے ایک صحابی مولوی فتح دین دھر کوئی روایت کرتے ہیں۔کہ " ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آدمی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بے قراری سے۔۔۔۔۔۔ایک کونہ سے دوسرے کونہ کی طرف۔۔۔چلے جاتے ہیں۔۔۔۔حضور نے ان کے استفسار پر اس حالت واردہ کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے اور جو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آرہی ہیں۔ان کا خیال آتا ہے۔تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے۔اور یہ اسلام ہی کا درد ہے جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔" (سیرة المهدی جلد ۳ صفحه ۲۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام دین اسلام کے بارہ میں اپنے درد کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔دن چڑھا ہے دشمنان دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد کشتی اسلام نا ہو جائے اس طوفاں سے پار تا کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر اے مری جاں کی پناہ فوج ملائک کو اتار میرے زخموں لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کو سن میں ہو گیا زارو نزار