"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 6
" اعجاز المسیح مسیح موعود علیہ السلام کا ایک "مجزه حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۶ء میں اپنی کتاب " انجام آتھم " میں مناظروں اور مباحثوں کے مواقع پر مخالفین کی طرف سے شرارتوں اور شرانگیز کاروائیوں کے نتیجہ میں اور بعض قانونی وجوہات کی بناء پر یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ آپ مناظروں اور مباحثوں میں حصہ نہیں لیں گے۔حق و صداقت میں فیصلہ اور امتیاز کے لئے آپ نے اس کتاب میں یہ طریق بھی پیش کیا کہ خدا تعالی سے دعا کے ذریعہ فیصلہ طلب کیا جائے۔چنانچہ آپ نے جن سجادہ نشینوں ، پیروں اور گدی نشینوں کو دعا کے مقابلہ میں بلایا ان میں گولڑہ (ضلع راولپنڈی) کے ایک مشہور پیر مہر علی شاہ (ولادت ۱۸۳۷ء وفات » مئی ۱۹۳۷ء) کا نام بھی تھا جو صوفیاء کے چشتی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔مذکورہ بالا پیر صاحب ابتدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں حسن ظن اور عقیدت کے جذبات رکھتے تھے۔چنانچہ ۹۷-۱۸۹۶ء کی بات ہے کہ ان کے ایک مرید بابو فیروز علی اسٹیشن ماسٹر گولڑہ نے (جو بعد ازاں حضرت مسیح موعود کی بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے تھے ) جب پیر صاحب سے حضرت اقدس کی بابت رائے دریافت کی تو انہوں نے بلا تامل جواب دیا۔امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں کہ بعض مقامات منازل سلوک ایسے ہیں کہ وہاں اکثر بندگان خدا پہنچ کر مسیح و مہدی بن جاتے ہیں۔بعض ان کے ہمرنگ ہو جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ شخص منازل سلوک میں اس مقام پر ہے یا حقیقتاً وہی مہدی ہے جس کا وعدہ جناب سرور کائنات علیہ الصلوۃ والسلام نے اس امت سے کیا ہے۔مذاہب باطلہ کے واسطے یہ شخص شمشیر براں کا کام کر رہا ہے اور یقینا تائید یافتہ ہے۔" ا محکم ۲۴ - جون ۱۹۰۴ء صفحه ۵ کالم ۳۴۲) پیر صاحب کا مخالفانہ رویہ اور ستمس الہدایہ کی اشاعت لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد وہ مولویانہ اگر پر چل پڑے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی