"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 56
۵۶ بعض عجیب تاویلیں بعض لوگ اس آیت کی زد سے حضرت عیسی کو بچانے کے لئے عجیب عجیب تاویلیں کرتے ہیں۔مثلاً یہ کہ اللہ تعالٰی نے اس آیت میں یہ تو فرمایا ہے کہ حضرت مسیح سے پہلے تمام رسول گزر گئے یہ نہیں فرمایا کہ خود حضرت مسیح بھی گزر گئے۔افسوس کہ وہ ذرا بھی اس طرز کلام پر غور نہیں کرتے۔ادنی سی زبان دانی سے بھی یہ بات سمجھ آجانی چاہئے کہ حضرت مسیح کو زمرہ رسل میں شامل کر کے جب سب رسولوں کے گزرنے کی خبر دی جا رہی ہے تو اس کے بعد حضرت مسیح کا زندہ رہ جانا ایک امر محال ہے لیکن اگر کوئی صاحب اب بھی یہ اصرار فرمائیں کہ اس آیت سے صرف حضرت مسیح سے پہلے انبیاء کی وفات ثابت ہوتی ہے۔حضرت مسیح کی نہیں۔تو ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ انصافا غور کر کے فرمائیں کہ اس صورت میں ذیل کی دوسری آیت سے کیا ثابت ہو گا۔دوسری آیت وما محمد الأرسول قد خلت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ( آل عمران رکوع ۱۵ پاره ۴ رکوع ۶) ترجمہ : نہیں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مگر ایک رسول ان سے قبل تمام رسول فوت ہو چکے پس اگر یہ بھی فوت ہو جائیں یا قتل کیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ اب فرمائیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کیسے اس آیت کی زد سے بچ سکتے ہیں ؟ کیونکہ اگر وہ حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے اور آپ جانتے ہیں کہ پہلے ہی تھے تو لازماً ان کی وفات تسلیم کرنی پڑے گی۔کیونکہ واضح طور پر آیت بتا رہی ہے کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام رسول فوت ہو چکے۔لیکن افسوس ہے کہ بعض علماء اب بھی ضد سے کام لیتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اللہ تعالٰی کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے قرآن کریم کے اس واضح ارشاد کے سامنے سر جھکا دیں۔اور اپنی غلطی کو جرات اور دیانتداری کے ساتھ تسلیم کر لیں وہ اس آیت کی بھی عجیب و غریب تاویل شروع کر دیتے ہیں۔مثلاً یہ کہہ دیتے ہیں کہ قد خلت من قبلہ الرسل