"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 57
۵۷ میں جو لفظ " محلت " استعمال ہوا ہے اس کا مطلب صرف مرجاتا ہی نہیں بلکہ ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا بھی ہے۔اس لئے ہم اس کا یہ مطلب نکالیں گے کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم سے قبل جتنے رسول تھے وہ سب یا تو مر گئے یا اپنی جگہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے۔لیکن ہم ناظرین پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ محض ایک زبر دستی ہے ورنہ عربی میں جب بھی کسی انسان کے متعلق مطلق طور پر یہ لفظ " خلا " استعمال ہو تو اس کا مطلب موت ہی ہوا کرتا ہے جگہ چھوڑنا نہیں عجیب اتفاق ہے کہ عربی کی طرح انگریزی اور اردو محاورہ میں بھی گزر گیا کے الفاظ ان دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں یعنی رستے پر سے گزر جانا اور مر جانا۔لیکن جب ہم یہ کہیں کہ گزشتہ تمام انبیاء گزر گئے تو یہ معنے کرنے محض مذاق ہوں گے کہ بعض انبیاء تو فوت ہو گئے اور بعض رستوں پر سے گزر گئے۔یا ایک جگہ سے چل کر کسی دوسری جگہ جاپہنچے۔یہ محض ایک دعوئی نہیں بلکہ عربی لغت واضح طور پر گواہی دے رہی ہے کہ جب مطلقا کسی کے متعلق ” خلا " کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس سے مراد اس شخص کی موت ہوتی ہے۔دیکھئے (1) تاج العروس میں لکھا ہے ” خلافلان " اذامات" یعنی جب کہا جائے کہ فلاں شخص گزر گیا۔تو مراد یہ ہوتی ہے کہ مرگیا۔لغت ہی نہیں بلکہ تفاسیر بھی اس آیت میں " خلا" سے مراد زندگی کا ختم ہوتا ہی بیان کرتی ہیں۔جیسا کہ تفسیر القونوی على اليضاوی جلد ۳ و تفسیر خازن جلد نمبر میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ويخلوا كما خلوا بالموت او القتل یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح دار فانی سے کوچ کر جائیں گے جس طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام طبعی موت یا قتل کے ذریعہ گزر گئے۔پس ثابت ہوا کہ موت کے علاوہ اس لفظ کے کچھ اور معنے کرنا ہرگز جائز نہیں۔اور اس آیت کے ہوتے ہوئے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت کے نزول کے وقت تک زندہ موجود تھے۔کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ وہی لفظ جو صاف صاف ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی موت کی خبر دے رہا ہو حضرت عیسی علیہ السلام کی دفعہ یکدم اپنے معنے ایسے تبدیل کرے کہ مارنے کی بجائے آسمان پر لے جا بٹھائے۔اگر اسی طرح الفاظ گرگٹ کی طرح اپنے رنگ بدلنے لگیں تو پھر تو ہر بات کا ہر مطلب نکالا جا سکتا ہے۔موت سے مراد زندگی اور زندگی سے موت مراد لی جا سکتی ہے۔عالم کو جاہل