"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 41 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 41

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی امتیازی شان ہے کہ آپ " اُمی" تھے یعنی پڑھے لکھے نہیں تھے۔آپ کے علاوہ کسی اور نبی کی اس خصوصیت کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔بلکہ حضرت داؤد حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام کا خصوصیت سے ذکر ملتا ہے۔کانوايكتبون ( تفسیر بیضاوی) کہ وہ لکھا کرتے تھے۔پس اب پشتی صاحب اپنے خود ساختہ معیار کے مطابق مذکورہ بالا جلیل القدر انبیاء علیم السلام کی فتوی صادر فرمائیں گے ؟ وہ تیر جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بغض میں چلایا ہے ، اس کا نشانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنیں یا نہ بنیں یہ انبیاء علیہم السلام ضرور بن رہے ہیں۔چشتی صاحب کی مذکورہ بالا تحریر ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو ان کی کھلی کھلی تلبیس کی نشاندہی کرتی ہے۔چشتی صاحب انبیاء کے متعلق لکھتے ہیں۔” وہ کتاب لاتے ہیں ، بھیجی گئی کتاب کی طرف بلاتے ہیں وہ کتاب لکھا نہیں کرتے " قارئین غور فرمائیں کہ وہ کتب جو انبیاء علیم السلام لاتے ہیں یا جن بھیجی گئی کتب پر عمل کرواتے ہیں وہ بالکل علیحدہ نوعیت کی کتب ہوتی ہیں جنہیں الہی کتب کہا جاتا ہے یا جو شریعت پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کتب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کو ملانا گستاخی ہے۔اور پھر ان کتب کے مقابل پر لا کر موازنہ کرنا تو انتہائی درجہ بے ادبی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی بھی اپنی کسی کتاب کے بارہ میں یہ دعویٰ نہیں فرمایا کہ وہ شریعت کی کتاب ہے۔آپ کی ہر کتاب شریعت محمدیہ کی تفسیر و تشریح پر مشتمل ہے۔جیسا کہ کتاب اعجاز المسیح نسورہ فاتحہ میں بیان شده۔حقائق و معارف کے بیان پر مشتمل ہے۔پس کتب اللہ یا شریعت کی کتابیں جو انبیاء علیہم السلام لاتے ہیں یا جن پر عمل کراتے ہیں ان کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام ، اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و وسلم کے مقابل پر محض خادمانہ اور غلامانہ ہے جس پر آپ کے حسب ذیل الہام شاہد ہیں۔-1 ہے۔کل بر که من محمد صلی اللہ علیہ و سلم فتبار ک من علم و تعلم