"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 36
(سیف چشتیائی ) میں تردید متعلق تغیر فاتحہ یعنی (اعجاز المسیح) جو فیضی صاحب مرحوم و مغفور کی ہے باجازت انکے مندرج ہے۔چنانچہ فیمابین تحریر ا نیز مثافتہ " جہلم میں قرار پا چکا تھا بلکہ فیضی صاحب مرحوم کی درخواست پر میں نے تحریر جو اب شمس بازغہ پر مضامین ضروریہ لاہور میں ان کے پاس بھیج دیئے تھے اور ان کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے نام پر طبع کرا دیویں۔افسوس کہ حیات نے وفا نہ کی اور نہ وہ میرے مضامین مرسلہ لاہور میں مجھے ملے۔آخر الا مر مجھ کو ہی یہ کام کرنا پڑا۔لہذا آپ سے ان کی کتابیں مستعملہ منگوا کر تفسیر کی تردید مندرجہ حسب اجازت سابقہ متغیر ها کی گئی آئندہ شاید آپ کو یا مولوی غلام محمد صاحب کو تکلیف اٹھانی ہو - گی۔والسلام " یہ ساری خط و کتابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب " نزول المسیح " میں درج فرما دی اور یہ کتاب پیر صاحب کی زندگی میں ہی شائع ہو گئی اس کتاب میں حضور اقدس نے پیر صاحب کی کتاب سیف چشتیائی میں مذکور نکتہ چینیوں کا بھی منہ توڑ جواب تحریر فرمایا۔پیر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر چند فقروں کی وجہ سے جو اعجاز المسیح میں بطور اقتباس یا توارد کے تحریر کئے گئے تھے سرقہ کا الزام لگایا تھا مگر سیف چشتیائی کو اپنی تصنیف قرار دینے کے لئے پیر صاحب نے جو سارقانہ جتن کئے ، اس مذکورہ بالا خط و کتابت کی وجہ سے ان کا بھانڈا چورا ہے میں پھوٹ گیا اور پیر صاحب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور بالاخر مولوی محمد حسن فیضی متوفی کی اپنے دستخطی نوٹوں والی کتابیں قادیان پہنچ گئیں تو پھر سیف چشتیائی سے ان نوٹوں کا موازنہ کر کے ہر و شخص نے پیر صاحب کا ایک مردہ شخص کی تحریروں کا قطعی چور ہونا مشاہدہ کر لیا۔یہ بے بسی اور ہزیمت تھی جو خدا تعالیٰ کی تقدیر خاص نے پیر صاحب کے مقدر میں لکھ دی تھی۔مأمور من اللہ ، مسیح موعود اور مہدی معہود سے مقابلہ نے جس طرح ان کی اصلیت اور پستی الم نشرح کی ، اس پر ان کا اپنا یہ شعر صادق آتا ہے کہ کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں