"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 26 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 26

۲۶ کہ یہ حقیقت ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ یہ کلام ایک شمشیر براں ہے جس نے ہر جھگڑنے والے کو کاٹ کر رکھ دیا ہے لہذا اب کوئی مدمقابل باقی نہیں رہا۔پس جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ فصیح البیان ہے اور اس کا کلام چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا ہے تو اس پر اب خاموشی حرام ہے اسے چاہئے کہ اس کی مٹیل لائے اور خواہ ان کے باپ، بیٹے ، منشیں ، علماء ، حکماء اور فقہاء سب مل کر بھی کوشش کریں کہ اس تھوڑی اور قلیل مدت میں اس کی مثیل لا سکیں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس کے بارہ میں دعا کی تو میری دعا کو شرف قبولیت بخشا گیا پس اب کوئی لکھنے والا خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا اس کا جواب لکھنے پر قدرت نہیں رکھتا۔یہ معارف کا خزانہ ہے بلکہ ان کا شہر ہے اور یہ حقائق کے پانی اور حقائق کی مٹی سے بنائی گئی ہے۔اس اعجازی کلام کو پیش کرتے ہوئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ” میں نے اس کتاب کے لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے علماء کیلئے معجزہ بنائے اور کوئی ادیب اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہو۔اور ان کو لکھنے کی توفیق نہ ملے۔اور میری یہ دعا قبول ہو گئی۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی اور کہا منعد مانع من السماء کہ آسمان سے ہم اسے روک دیں گے۔اور میں سمجھا کہ اس میں اشارہ ہے کہ دشمن اس کی مثال لانے پر قادر نہیں ہونگے۔" ( صفحه ۶۸ جلد ہذا ) پیشگوئی کے مطابق نہ پیر گولڑوی کو اور نہ عرب و عجم کے کسی اور ادیب چنانچہ اس عظیم الشان۔فاضل کو اس کی مثل لکھنے کی جرات ہوئی۔000