"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 23 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 23

۲۳ عصری آسمان پر جانا اور پھر آنا مذکور ہو نیز وہ تفسیر نویسی اور بالمشافہ تقریر کے بھی مرد میدان نہ بن سکے۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے اتمام حجت پیر صاحب کے لاہور سے جانے کے بعد ان کے عقید تمندوں کی طرف سے اشتہاروں کا ایک سلسلہ جاری کر دیا گیا جس میں لکھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے مقدس انسان بالمقابل تفسیر لکھنے کیلئے صعوبت اٹھا کر لاہور پہنچے مگر مرزا صاحب اس بات پر اطلاع پا کر کہ وہ بزرگ نا بغہ زماں سجان دوراں اور پر علم و معارف قرآن میں لاثانی روزگار ہیں اپنے گھر کے کسی گوشہ میں چھپ گئے ورنہ حضرت پیر صاحب کی طرف سے معارف قرآنی بیان کرنے اور زبان عربی کی فصاحت دکھلانے میں بڑا نشان ظاہر ہوتا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حق پوشی کا یہ رنگ دیکھا تو اللہ تعالی کی تحریک سے ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء مندرجہ اربعین نمبرہ میں بالقاء ربانی تفسیر لکھنے کیلئے ایک اور تجویز پیش کی۔آپ نے فرمایا۔"اگر پیر جی صاحب حقیقت میں فصیح عربی تفسیر پر قادر ہیں اور کوئی فریب انہوں نے نہیں کیا۔تو اب بھی وہی قدرت ان میں ضرور موجود ہو گی۔لہذا میں ان کو خدا تعالی کی قسم دیتا ہوں کہ اس میری درخواست کو اس رنگ میں پورا کر دیں کہ میرے دعاوی کی تکذیب کے متعلق فصیح بلغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھیں جو چارجز سے کم نہ ہو۔اور میں اس سورۃ کی تفسیر بفضل الله و قوتہ اپنے دعوی کے اثبات سے متعلق فصیح بلیغ عربی میں لکھوں گا۔انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں دنیا کے علماء سے مدد لیں۔عرب کے بلغاء فصحاء بلا لیں۔لاہور اور دیگر بلاد کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کریں۔۱۵ - دسمبر ۱۹۰۰ ء سے ستردن تک اس کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے۔ایک دن بھی زیادہ نہیں ہو گا۔اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب ان کی تغیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پر خیال کریں تو میں پانسو