"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 17
16 مطابق بلا کم و کاست شرائط سے مقابلہ تفسیر نویسی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ایسی تحریر پر کم از کم لاہور کے چار مشہور رئیسوں اور مولویوں کے شہادۃ " دستخط کرا دیں۔۔۔۔۔ہم یہ عرض ہادب کرتے ہیں کہ اللہ آپ اس فیصلہ کے لئے آمادہ ہوں اور کسی طرح گریز کا خیال نہ فرمائیں۔" ( مفصل خط کے لئے ملاحظہ ہو " واقعات صحیحہ » صفحہ ۴۶۴٬۴۵) یہ خط اسگلے دن ۲۵ اگست کو لکھا گیا تھا۔ایک غیر از جماعت دوست میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ۔حکیم سید محمد عبداللہ صاحب عرب بغدادی ، منشی عبد القادر صاحب مدرس ، میاں میر بخش دوکاندار لاہور کے ہمراہ پیر صاحب کی خدمت میں نماز ظہر کے وقت پہنچے۔پیر صاحب موصوف نے فرمایا کہ اس کا جواب عصر کے بعد دیں گے مگر جب داروغہ صاحب پانچ بجے ان کی قیام ہ پر پہنچے۔تو ان کے مریدوں نے داروغہ صاحب کو اندر نہ جانے دیا اور باہر ہی سے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ پیر صاحب اس خط کا کوئی جواب نہیں دیتے۔گاه پر - واقعات صحیحہ - صفحه ۴۴-۴۵-۴۷) لاہور کے احمدیوں نے ۲۷ جون ۱۹۰۰ء سے بذریعہ اشتہار ایک چیلنج دے رکھا تھا کہ کوئی عالم یا گدی نشین اپنے تئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ پر حق پر سمجھتے ہیں تو وہ بھی شامل ہو کر دعا کی قبولیت میں مقابلہ کرلیں اور وہ اس طرح کہ بعض لاعلاج مریضوں اور مصیبت زدوں کو بذریعہ قرعہ اندازی تقسیم کر لیا جائے۔آدھے حضرت مرزا صاحب کے حصے میں اور آدھے فریق ثانی کے حصے میں۔دونو خدا سے دعا کریں اور چالیس دن کے اندر خدا سے خبر پا کر یہ بات شائع کر دیں کہ ہمارے مریضوں میں سے فلاں فلاں مریض تندرست ہو جائیں گے جس کی دعا سے مریض تندرست اور مصیبت زدہ خوشحال ہو جائیں وہ حق پر سمجھا جائے۔اس سیدھے سادھے طریق کے جواب میں ایک طویل خاموشی کے بعد اسی روز ۲۵ - اگست ۱۹۰۰ء کو لاہور میں ایک اشتہار تقسیم ہوا جس میں مولوی غازی صاحب وغیرہ پیر صاحب کے مریدوں نے صاف لفظوں میں اقرار کیا کہ نہ خدا ہمارا طرفدار ہے اور نہ بیماروں کو ہماری دعا سے شفا ہو سکتی ہے۔مرزا صاحب یکطرفہ نشان دکھائیں اور مریضوں کو شفا دلائیں۔واقعات صحیحہ - صفحه ۲۰۱۹)