"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 18
۱۸ افہام و تفہیم کی یہ سب صورتیں جب یکسر ناکام رہیں تو حکیم فضل الہی صاحب اور میاں معراج الدین صاحب عمر نے دوسرے دن (۲۶ - اگست ۱۹۰۰ ) پیر صاحب کے نام ایک رجسٹری خط میں درخواست کی کہ وہ اپنی دستخطی تحریر سے اشتہار شائع فرما دیں کہ مجھے ۲۰۔جولائی ۱۹۰۰ء کی دعوت تغییر نویسی بلا کم و کاست منظور ہے۔لیکن افسوس پیر صاحب نے رجسٹری لینے سے صاف انکار کر دیا۔واقعات صحیحہ - صفحہ ۴۷) ( واقعات صحیحہ - صفحہ ۴۷) مگر ان کے مریدوں نے یہ خبر پھیلائی کہ پیر صاحب نے تو مرزا صاحب کو ۲۵۔اگست کو کئی تار دیئے ہیں۔مگر مرزا صاحب کی طرف سے ہی کوئی جواب نہیں ملا۔جس پر ۲۷۔اگست کو اشتہار دیا گیا کہ پیر صاحب اللہ شہادت شائع کر دیں کہ یہ خبر صحیح ہے تو ہم اکاون روپے بطور نذرانہ پیش کریں گے۔(واقعات صحیحہ - صفحه ۴۹) مگر پیر صاحب بدستور خاموش رہے۔اس کے بعد یہ ہوا کہ اسی روز صبح شاہی مسجد میں علماء کرام نے اصل واقعات پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک بھاری جلسہ کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ مرزا صاحب اور ان کے مریدوں کی پروا نہ کریں اور نہ ان کی کسی بات کا جواب دیں۔اشاعت السته جلد ۱۹ نمبر ۱۳۲ پر اس جلسہ کی کارروائی میں علماء کا یہ فیصلہ ان الفاظ میں درج ہے:۔" آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی یا اس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پروا نہ کریں اور نہ ان سے مخاطب ہوں اور نہ ہی انہیں کچھ جواب دیں کیونکہ ان کے عقائد وغیرہ بالکل خلاف اسلام ہیں۔" اس موقعہ پر منشی نظام الدین صاحب فنانشل سیکرٹری انجمن حمایت اسلام نے پیر صاحب کی خدمت میں باصرار درخواست کی کہ وہ بھی اپنے خیالات سے مستفید فرمائیں۔پھر بادشاہی مسجد میں لوگوں نے بڑی لجاجت سے درخواست کی کہ پبلک جلسہ میں کچھ فرمائیں۔مگر انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ میری آواز دھیمی ہے میں منبر پر کھڑے ہو کر تقریر کرنے کے قابل نہیں ہوں۔الحکم ۲۴ - اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحه ۷۶ )