"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 10 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 10

اس کتاب کی اشاعت سے نہ صرف عوام الناس پر پیر صاحب کے جملہ دلائل کا بودا ہوتا اظہر من لشمس ہو گیا بلکہ ان کے خیالات کی تاریکی سے بھی ہر کوئی واقف ہو گیا۔چنانچہ اس کتاب میں بیان شده دلائل آج تک پیر صاحب کے سلسلہ کے لئے وجہ خجالت بنے ہوئے ہیں۔کتاب شمس الہدایہ کے اصل مصنف مولوی محمد غازی نے اس کے آخری صفحہ پر حضرت اقدس کو ” بشرط کافی انتظام و اطمینان " مباحثہ کی دعوت بھی دی تھی اس لئے سید محمد احسن صاحب امروہوی نے بتاریخ 9 جولائی 1900ء پیر صاحب کو بذریعہ اشتہار اطلاع دے دی کہ میں مباحثہ کے لئے تیار ہوں آپ اپنی طرف سے آمادگی کا اعلان فرما ئیں ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ حق ہماری طرف ہے۔( الحکم ۹ - جولائی ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۱۰ و الحکم ۲۳ - جولائی ۱۹۰۰ء صفحہ ۵ کالم ۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج پیر مہر علی شاہ صاحب نے حضرت سید محمد احسن امروہوی صاحب کی طرف سے مباحثہ کی دعوت کی منظوری کا کوئی جواب نہ دیا اور پچھلے دروازے سے فرار میں ہی عافیت سمجھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو اس وقت تک پیر صاحب کے ذاتی جواب کے منتظر تھے ، براہِ راست پیر صاحب سے مخاطب ہوئے اور ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء کو اشتہار دیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے ہزارہا مرید یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ علم اور حقائق اور معارف دین میں اور علوم او بسیہ میں اس ملک کے تمام مولویوں سے بڑھ کر ہیں بلکہ خود کتاب شمس الہدایہ میں بھی ان کا یہ دعوئی درج ہے کہ قرآن مجید کی سمجھ ان کو عطا کی گئی ہے۔یہ امر کہاں تک درست ہے اس کے فیصلہ کے لئے میں ایک سہل طریق رکھتا ہوں اور وہ یہ کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جو لوگ در حقیقت خدا تعالٰی کے راستباز بندے ہیں انہیں تین طور سے خدا کی تائید ہوتی ہے۔ا مقابلہ کے وقت خدا تعالٰی ان سے خارق عادت سلوک کرتا ہے (و یجعل لکم فرقانا) ان کو علم معارف قرآن و : : ہے۔(لا يمسه الا المطهرون)