"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 96 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 96

ง ili - جنت کے وعدے دے کر لوٹتا رہا۔iv - مولوی کی اصل حقیقت۔نیز منبر رسم گدائی ہے ہنر اس کا وہ ہے رقاص مذہب پاؤں میں سونے کی پائل ہے اگرچہ رولتا پھرتا ہے وہ تسبیح کے دانے مگر در پردہ وہ زر کی ہوس گاہوں کا سائل ہے (۵) پیام مشرق اپنے شمارہ نمبر ۸ اگست ۱۹۹۰ء جلد نمبرہ میں یہ پیام دیتا ہے کہ یہ (مولوی چشتی ) ۴۲۰ کا نام پانے کا مستحق ہے۔-ii - جامعہ اسلامیہ کے نام پر ایک مذہبی سکول خریدا گیا خرچ مرکزی فنڈ سے ادا ہوئے اور جائیداد مولانا نے اپنے نام لگوالی۔کنٹریکٹ کی نقل بھی موجود ہے۔(۱) ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء بروز جمعتہ المبارک رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں اوسلو کی مسجد میں جو فساد برپا ہوا اس کی وجہ سے پولیس نے مسجد کے تقدس کو اپنے جوتوں اور کتوں کے ساتھ پامال کیا۔چشتی صاحب ! وہ بھی آپ ہی کا کارنامہ تھا۔جس کی تفصیل اخبار DAGBLADET کی ۲ - اپریل 194 ء بروز منگل کی اشاعت میں صفحہ ۸ پر شائع ہوئی اور سارے ملک میں آپ کی ذلتوں کا چرچا ہوا۔" - (۷) اب آخر میں ملاحظہ ہو - ماہنامہ قائد اوسلو - ماہ مارچ ۱۹۹ شمارہ نمبر ۳ - لکھا ہے۔مولانا مشتاق احمد چشتی کو امامت کی ذمہ داری سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اور اس فراغت کے بعد مسجد کی رونق بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔لوگوں نے اس جھگڑے کے ختم ہونے پر شکرانے کے نوافل ادا کئے۔" الحمد للہ ثم الحمد للہ چشتی صاحب ! ہم آپ کے ان تمام افعال شنیعہ اور ان کے نتیجہ میں ذلتوں کے ہار کے دانوں کو نہیں گنتے۔آپ خود سوچیں کہ مباہلہ قبول کرنے کے ساتھ ہی آپ پر رسوائیوں کی چھتی کیوں چل پڑی اور اس چکی کا ہر دور کیوں آپ کی نئی ذلت لے کر آیا۔پھر سوچیں کہ کیا یہ وہی لعنتیں نہیں جو مامورین کے مقابل پر کھڑا ہونے والوں کا مقدر ہوتی ہیں۔۔خدا تعالٰی نے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھا ہے۔اب بھی اس میں داخل ہونے کا موقعہ ہے اپنی چالاکیوں ہیرا پھیریوں ، جھوٹوں